بین الاقوامی فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والی ایک اور ممتاز شخصیت نے اسلام قبول کر لیا ہے۔
ممبئی میں پیدا ہونے والے اور طویل عرصے سے برطانیہ میں مقیم نامور فلم ساز سائرس پٹیل کے لندن میں اسلام قبول کرنے کی اطلاعات نے سوشل میڈیا اور شوبز کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔
ہالی ووڈ کے مایہ ناز اداکار جیانکارلو اسپوزیٹو کے اسلام قبول کرنے کی حالیہ خبروں کے بعد، یہ فلمی دنیا کی دوسری بڑی شخصیت ہیں جنہوں نے مذہب تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل دستاویز اور تصدیق
مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک اہم سرکاری دستاویز تیزی سے گردش کر رہی ہے، جسے سائرس پٹیل کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا باقاعدہ سرٹیفکیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سرٹیفکیٹ لندن کی مرکزی مسجد اور اسلامی ثقافتی مرکز کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔
اس دستاویز کو آن لائن شیئر کرنے والی اہم ترین شخصیت ترکی آل الشیخ ہیں، جو سعودی عرب میں جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین ہیں، جس کے بعد اس خبر کی اہمیت اور صداقت مزید بڑھ گئی ہے۔
سعودی عرب میں قیام اور فیصلہ کن موڑ
ترکی آل الشیخ کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات کے مطابق سائرس پٹیل نے سعودی عرب میں ایک بڑے فلمی منصوبے کے سلسلے میں طویل وقت گزارا۔
اس دوران وہ اسلامی ثقافت، اقدار اور طرز زندگی سے شدید متاثر ہوئے، جس کے بعد انہوں نے سوچ سمجھ کر لندن واپسی پر اسلام قبول کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔
یہ پیش رفت آن لائن دنیا میں خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے، کیونکہ اس سے قبل جیانکارلو ایسپوزیٹو کے بارے میں بھی ایسی ہی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ انہوں نے بھی سعودی عرب میں قیام کے دوران اسلام کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔
سائرس پٹیل کا فلمی سفر اور کیریئر
سائرس پٹیل ہندوستان کے شہر ممبئی میں پیدا ہوئے تھے اور وہ 1999 سے مستقل طور پر لندن میں مقیم ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی فلمی صنعت (ہالی ووڈ اور برٹش سنیما) میں بطور لائن پروڈیوسر اور ایونٹ پروڈکشن منیجر ایک معتبر نام اور شہرت حاصل کی ہے۔
انہوں نے کئی بڑے اور ہٹ فلمی منصوبوں پر کام کیا ہے، جن میں عالمی سطح پر سراہی جانے والی فلمیں ‘دی منسٹری آف انجینٹلمینلی وار فیئر’ اور ‘کندھار’ نمایاں طور پر شامل ہیں۔
ہالی ووڈ شخصیات کا اسلام کی طرف رجحان اور سعودی عرب کا بدلتا کردار
گزشتہ چند سالوں میں عالمی شوبز انڈسٹری سے وابستہ اہم شخصیات کی جانب سے اسلام قبول کرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ماضی میں بھی مائیکل جیکسن کے بھائی جرمین جیکسن اور مایہ ناز باکسر محمد علی جیسی شخصیات اسلام کی آغوش میں آئیں، لیکن حالیہ دنوں میں ہالی ووڈ فنکاروں کا رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلامی دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ میں فلمی سرگرمیوں کے بڑھنے سے ثقافتی تبادلہ تیز ہوا ہے۔
سعودی عرب کا حالیہ ‘ویژن 2030’ جہاں تفریحی صنعت کو فروغ دے رہا ہے، وہاں غیر مسلم فلم سازوں کو اسلام کو قریب سے سمجھنے کا موقع بھی فراہم کر رہا ہے۔