قومی اسمبلی میں وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کے مابین دلچسپ مکالمہ ، ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا

قومی اسمبلی میں وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کے مابین دلچسپ مکالمہ ، ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ہونے والے دلچسپ مکالمے نے ایوان کا ماحول خوشگوار بنا دیا، جبکہ ارکان اسمبلی قہقہے لگانے اور ڈیسک بجا کر داد دینے پر مجبور ہوگئے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ ان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مختلف قومی اور سیاسی امور پر مولانا فضل الرحمٰن سے تنہائی میں بھی تفصیلی گفتگو ہوتی رہتی ہے اور ان کے ساتھ احترام اور اعتماد کا رشتہ قائم ہے۔

وزیراعظم کے اس بیان پر مولانا فضل الرحمٰن نے برجستہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے وزیراعظم سے ایسی کوئی بات کی ہے تو اسے ایوان میں برملا بیان کیا جائے۔ مولانا کے اس فقرے پر ایوان میں مسکراہٹیں بکھر گئیں اور ارکان اسمبلی نے دلچسپی کا اظہار کیا۔

مولانا کے جواب پر وزیراعظم شہباز شریف بھی فوری طور پر اپنی نشست سے کھڑے ہوگئے اور مسکراتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن سے جو باتیں ہوئی ہیں وہ راز ہیں اگر بات نکلی تو بہت دور تک جائے گی۔ وزیراعظم کے اس جواب پر ایوان زوردار قہقہوں سے گونج اٹھا جبکہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر بھی اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:خام تیل کی قیمتیں مزید 2 فیصد گر گئیں ، پیٹرول وڈیزل مزید سستا ہونے کا امکان

اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کا مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے اور جو باتیں تنہائی میں ہوتی ہیں وہ راز ہی رہیں گی اور قبر تک جائیں گی۔

بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں اپنی نشست سے اٹھ کر خود مولانا فضل الرحمٰن کے پاس گئے اور ان سے ملاقات کی .قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نے اپوزیشن ارکان سے بھی خوشگوار انداز میں ملاقاتیں کیں۔ وہ خصوصی طور پر اپوزیشن لیڈر کی نشست تک گئے اور ان سے مصافحہ کیا۔ وزیراعظم نے سینیئر سیاستدان لطیف کھوسہ اور رکن اسمبلی نور عالم خان سے بھی ملاقات کی اور خیرسگالی کا اظہار کیا۔

اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی اپنی نشست سے اٹھ کر وزیراعظم سے ملنے گئے۔ دونوں رہنماؤں نے مسکراتے ہوئے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو کی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں جہاں اہم سیاسی اور قومی امور پر بحث جاری رہی وہیں وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ہونے والے دلچسپ مکالمے نے ایوان کے ماحول کو خوشگوار بنا دیا اور ارکان اسمبلی کو ہلکے پھلکے لمحات فراہم کیے۔ اجلاس کی کارروائی بعد ازاں معمول کے مطابق جاری رہی۔

editor

Related Articles