عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد فی اونس سونے کی قیمت دوبارہ 4 ہزار ڈالر کی نفسیاتی حد سے تجاوز کر گئی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 1.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس سے سرمایہ کاروں کی محفوظ سرمایہ کاری کی جانب بڑھتی ہوئی دلچسپی نمایاں ہو گئی۔
رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز سونے کی قیمت نومبر کے بعد پہلی مرتبہ 4 ہزار ڈالر فی اونس سے نیچے آئی تھی تاہم تازہ خریداری کے رجحان کے باعث قیمت دوبارہ اس اہم سطح سے اوپر پہنچ گئی۔
امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے جاری کردہ پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر (PCE) پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار توقعات سے کم رہے جس کے بعد امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں کمی آئی۔ دوسری جانب امریکی شہریوں کی آمدنی اور اخراجات کے اعداد و شمار توقعات سے بہتر رہے جس سے مارکیٹ میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔
افراطِ زر میں توقع سے کم اضافے نے اس امکان کو تقویت دی ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو مستقبل میں شرحِ سود میں جارحانہ اضافے سے گریز کر سکتا ہے۔ شرح سود میں اضافے کی رفتار سست ہونے کی توقع نے سونے کی کشش میں اضافہ کیا کیونکہ کم شرح سود کے ماحول میں سونا سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش اثاثہ تصور کیا جاتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال تجارتی خدشات اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث بھی سرمایہ کار ایک مرتبہ پھر سونے کو محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven) کے طور پر ترجیح دے رہے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ ہفتوں میں امریکی شرح سود میں کمی کے امکانات مزید مضبوط ہوئے یا عالمی سیاسی کشیدگی برقرار رہی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر کی مقامی صرافہ مارکیٹوں پر بھی مرتب ہوں گے۔