صارفین متوجہ ہوں، اسٹیٹ بینک نے ملک بھر کے بینکوں میں عام تعطیل کا اعلان کردیا

صارفین متوجہ ہوں، اسٹیٹ بینک نے ملک بھر کے بینکوں میں عام تعطیل کا اعلان کردیا

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مرکزی اور نجی بینکوں کے صارفین کے لیے ایک اہم ترین اعلامیہ جاری کرتے ہوئے یکم جولائی کو ملک بھر کے تمام بینک اور مالیاتی ادارے بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ آفیشل نوٹیفکیشن کے مطابق یکم جولائی (بروز بدھ) کو باقاعدہ ‘بینک ہالیڈے’ (بینک تعطیل) ہوگی، جس کے باعث تمام شیڈولڈ بینک عوامی لین دین اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے مکمل طور پر بند رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:یکم مئی کو یومِ مزدور کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل، بینک اور تعلیمی ادارے بند رہیں گے

تاہم مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ یہ چھٹی صرف پبلک ڈیلنگ کے لیے ہے، جبکہ بینکوں کے ملازمین معمول کے مطابق دفاتر میں حاضر ہو کر اپنے اندرونی کھاتوں کی کلوزنگ کا کام انجام دیں گے۔

کون کون سے ادارے بند رہیں گے؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعلامیے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اس تعطیل کا اطلاق صرف کمرشل بینکوں پر ہی نہیں ہوگا، بلکہ ملک بھر میں کام کرنے والے تمام ترقیاتی مالیاتی ادارے (ڈی ایف آئیز) اور مائیکروفنانس بینک بھی اس دن بند رہیں گے۔

یکم جولائی کو بینکاری نظام میں عوامی ٹرانزیکشنز، چیکس کی کلیئرنگ اور برانچ لیول پر کیش کا لین دین معطل رہے گا، جس کے بعد 2 جولائی سے تمام خدمات دوبارہ بحال کر دی جائیں گی۔

پاکستان کے بینکاری نظام میں یکم جولائی کی تعطیل ایک روایتی اور آئینی حیثیت رکھتی ہے۔ ہر سال 30 جون کو پاکستان کا مالیاتی سال (فنانشل ایئر) اختتام پذیر ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں:یکم مئی کو یومِ مزدور کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل، بینک اور تعلیمی ادارے بند رہیں گے

مروجہ طریقہ کار کے مطابق 30 جون کی رات تک ملک بھر کے تمام بینکوں، کارپوریٹ اداروں اور حکومتی محکموں کے سالانہ کھاتے بند کیے جاتے ہیں۔

یکم جولائی کو بینکوں کو پبلک ڈیلنگ سے اس لیے روک دیا جاتا ہے تاکہ ملازمین بغیر کسی بیرونی مداخلت یا پبلک پریشر کے پچھلے پورے سال کے مالیاتی ریکارڈ، منافع و نقصان، اور زکوٰۃ کی کٹوتیوں کے آڈٹ کو حتمی شکل دے سکیں اور نئے مالیاتی سال کا آغاز صاف کھاتوں کے ساتھ کیا جا سکے۔

ڈیجیٹل بینکنگ پر انحصار

اگرچہ برانچز عوامی لین دین کے لیے بند رہیں گی، لیکن حالیہ سالوں میں سٹیٹ بینک کی ڈیجیٹلائزیشن پالیسی کے باعث آن لائن بینکنگ، موبائل ایپس اور اے ٹی ایم سروسز چالو رہتی ہیں۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب ‘بینک ہالیڈے’ سے کاروباری طبقے کو ماضی جیسا شدید جھٹکا نہیں لگتا کیونکہ متبادل راستے موجود ہوتے ہیں۔

نئے بجٹ کا نفاذ

یکم جولائی کا دن ملکی معیشت کے لیے اس لیے بھی انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ اسی دن سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نئے مالیاتی بجٹ اور نئے ٹیکس قوانین کا باقاعدہ نفاذ ہوتا ہے۔

بینکوں کی اندرونی کلوزنگ ان نئے ٹیکس سلیبس کو اپنے سسٹم میں اپڈیٹ کرنے کے لیے بھی ضروری ہوتی ہے۔

صارفین کے لیے اسمارٹ پلاننگ

چونکہ یکم جولائی کو بدھ کا دن ہے، اس لیے کاروباری افراد اور عام صارفین کو اپنے چیکس کی کلیئرنگ اور بڑے پیمانے پر رقم کی منتقلی جیسے امور 30 جون سے پہلے یا پھر 2 جولائی تک کے لیے شیڈول کرنے ہوں گے تاکہ کسی بھی قسم کی کاروباری رکاوٹ سے بچا جا سکے۔

Related Articles