وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے29مئی کو لاپتہ شاعر احمد فرہاد کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دیے گئے ریمارکس سامنے آگئے۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں بے شمار قربانیاں دے رہی ہیں۔ 70 ہزار سے زیادہ شہادتیں دی جا چکی ہیں، مسنگ پرسنز کا معاملہ اتنا سادہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئر لینڈ میں 70کی دہائی میں آئرش ریپبلیکن آرمی کے خلاف چودہ سے نوے دن کی ڈیٹینشن کا قانون بنایا گیا۔ انڈیا میں بھی ایسے معاملات سے نپٹنے کے لئے قانون موجود ہے، دہشت گردوں کو عام عدالتوں سے انویسٹیگیٹ نہیں کیا جا سکتا۔ آرٹیکل 248 وفاقی اور صوبائی کابینہ، حکومتی وزراء کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
آئین کا آرٹیکل 199(3) آرمڈ فورسز پرسنل کو عدالتوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ آئین سازوں نے اِن عہدوں اور اداروں کو سوچ سمجھ کر تحفظ فراہم کیا تھا۔اعظم نذیر تارڑنے کہا کہ آئین کی شقوں کی سلیکٹو تشریح نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ اگر معزز عدالت کو کوئی مسئلہ ہے تو ہم حاضر ہیں، عدالت ہم سے رجوع کرے۔

