افغانستان کی مزاحمتی تنظیم ’نیشنل ریزسٹنٹ فرنٹ‘ کے رہنما ’احمد مسعود‘ نے طالبان حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے دہشتگرد تنظیموں کی حمایت کے لیے افغانستان کے عوام کے مفادات کو قربان کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک ایک بار پھر علاقائی تنازعات اور سیکیورٹی بحران کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
افغانستان کے معروف سیاسی اور مذہبی رہنما ’عبدالعلی مزاری‘ کی’31‘ویں برسی کے موقع پر منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احمد مسعود نے کہا کہ عبدالعلی مزاری افغانستان کی ’اسلامک یونٹی پارٹی‘ کے بانی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور انہیں ہزارہ برادری کے ایک اہم سیاسی نمائندے کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ تقریب میں مختلف سیاسی کارکنوں، سماجی رہنماؤں اور مزاحمتی تحریک کے حامیوں نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں احمد مسعود نے کہا کہ طالبان کی موجودہ حکمرانی نے افغانستان کو ایک ایسے راستے پر ڈال دیا ہے جہاں ریاستی مفادات کے بجائے شدت پسند گروہوں کے مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق طالبان مختلف دہشتگرد تنظیموں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں، جن میں ’القاعدہ‘، ’جیش العدل‘، ’تحریک طالبان پاکستان‘ اور ’انصاراللہ‘ جیسے گروہ شامل ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان تنظیموں کو افغانستان کی سرزمین پر موجودگی اور سرگرمیوں کی اجازت دینے کے باعث نہ صرف افغانستان کی داخلی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے ہیں بلکہ پورا خطہ بھی عدم استحکام کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ احمد مسعود کے مطابق اس صورتحال نے افغانستان کو عالمی اور علاقائی سیکیورٹی کے پیچیدہ کھیل کا میدان بنا دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، سرحدی تنازعات اور فوجی کارروائیاں اسی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔ احمد مسعود نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر کیے جانے والے حملے بھی اسی صورتحال کا ردعمل ہیں، کیونکہ شدت پسند گروہوں کی موجودگی نے پڑوسی ممالک کے لیے سکیورٹی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں نے نہ صرف افغانستان کو سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے بلکہ ملک کی معیشت، سیکیورٹی اور سیاسی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان مسلسل سیکیورٹی بحران، داخلی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ شدت پسند گروہوں کو دی جانے والی پناہ اور حمایت ہے۔
احمد مسعود نے کہا کہ آج افغانستان میں جو جنگی ماحول، عدم استحکام اور کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے وہ کسی اچانک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل عرصے سے کیے جانے والے غیر دانشمندانہ فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر افغانستان میں پائیدار امن قائم کرنا ہے تو شدت پسند تنظیموں کی سرپرستی ختم کرنا ہوگی اور ایک جامع سیاسی نظام کی طرف پیش قدمی کرنا ہوگی جس میں تمام قومیتوں اور سیاسی قوتوں کو نمائندگی حاصل ہو۔
تقریب کے اختتام پر احمد مسعود نے افغانستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک میں امن، استحکام اور ایک جامع سیاسی نظام کے قیام کے لیے متحد ہو جائیں تاکہ افغانستان کو ایک بار پھر علاقائی کشیدگی اور پراکسی جنگوں کا میدان بننے سے بچایا جا سکے۔