گجرات ہائیکورٹ نے 2008 کے احمدآباد سلسلہ وار بم دھماکا کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے 38 افراد کی سزائے موت اور 11 افراد کی عمر قید کی سزا کی توثیق کر دی ہے۔
2 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سزا یافتہ افراد کی اپیلوں اور ریاستی حکومت کی سزائے موت کی توثیق سے متعلق درخواست پر سنایا۔
عدالت نے متاثرہ خاندانوں اور زخمیوں کے لیے معاوضے کا حکم بھی دیا، جبکہ دفاعی فریق اور قانونی معاونت فراہم کرنے والی تنظیموں نے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بھارت کی ریاست گجرات میں 2008 کے احمدآباد سلسلہ وار بم دھماکا کیس میں ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کے 2022 کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے 38 سزا یافتہ افراد کی سزائے موت اور 11 افراد کی عمر قید کی سزا کی توثیق کر دی۔
عدالت نے سزا یافتہ افراد کی جانب سے دائر اپیلیں مسترد کر دیں، جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے سزائے موت کی تصدیق سے متعلق ریفرنس منظور کر لیا۔
2 رکنی بینچ کا فیصلہ
یہ فیصلہ جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سنایا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے تقریباً 1 سال تک روزانہ کی بنیاد پر اپیلوں کی سماعت کی، جس کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائیں برقرار رہیں گی، تاہم تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد قانونی نکات مزید واضح ہوں گے۔
معاوضے سے متعلق حکم
عدالت نے متاثرہ خاندانوں اور زخمیوں کے لیے معاوضے کا حکم بھی دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق گجرات حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو فی کس 10 لاکھ روپے، شدید زخمیوں کو 5 لاکھ روپے اور معمولی زخمیوں کو 1 لاکھ روپے ادا کیے جائیں۔ یہ ادائیگی 31 مارچ 2027 تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
2008 کے دھماکوں کا پس منظر
26 جولائی 2008 کو احمدآباد میں مختصر وقفوں کے دوران متعدد بم دھماکے ہوئے تھے۔ بھارتی رپورٹس کے مطابق 21 مربوط دھماکوں نے شہر کے تقریباً 20 مقامات کو نشانہ بنایا۔
ان میں اسپتال، بسیں، سائیکلیں، گاڑیاں اور عوامی مقامات شامل تھے۔ ان دھماکوں میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔
بھارتی تحقیقاتی اداروں نے اس کیس کو ایک بڑی سازش قرار دیتے ہوئے مختلف ریاستوں سے درجنوں افراد کو گرفتار کیا۔ مقدمے میں گجرات، اتر پردیش، مہاراشٹر، کرناٹک، کیرالا، مدھیہ پردیش، راجستھان، بہار اور دہلی سمیت کئی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو نامزد کیا گیا۔
استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ یہ حملے 2002 کے گجرات فسادات کے ردعمل میں کیے گئے، تاہم دفاعی فریق مسلسل ان الزامات کو چیلنج کرتا رہا۔
مقدمے کی طویل عدالتی کارروائی
یہ مقدمہ بھارت کے بڑے فوجداری مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس کیس میں 35 ایف آئی آرز کو ایک ساتھ جوڑ کر مشترکہ ٹرائل چلایا گیا۔
استغاثہ نے 1,163 گواہ پیش کیے، ہزاروں دستاویزی اور مادی شواہد عدالت میں رکھے گئے اور خصوصی عدالت کا فیصلہ تقریباً 7,000 صفحات پر مشتمل تھا۔
خصوصی عدالت نے فروری 2022 میں 78 ملزمان میں سے 49 کو مجرم قرار دیا تھا۔ ان میں سے 38 کو سزائے موت جبکہ 11 کو عمر قید سنائی گئی۔ اسی فیصلے میں 28 افراد کو ناکافی شواہد یا شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا گیا تھا۔
دفاعی فریق کا مؤقف
دفاعی فریق کا مؤقف رہا ہے کہ مقدمے میں کئی قانونی اور تفتیشی سوالات جواب طلب ہیں۔ سزا یافتہ افراد کے حامیوں اور قانونی معاونت فراہم کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مقدمے میں شواہد، اعترافی بیانات، تفتیشی طریقہ کار اور ملزمان کے کردار سے متعلق کئی نکات سپریم کورٹ میں دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔
جمعیۃ علمائے مہاراشٹر اور جمعیۃ علمائے ہند سے وابستہ قانونی معاونت کمیٹی نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق 49 سزا یافتہ افراد میں سے 39 کو قانونی معاونت فراہم کی گئی تھی اور اب اگلے مرحلے میں ملک کے ممتاز فوجداری وکلا کے ذریعے فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
جمعیۃ کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان
جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ سے انصاف کی امید رکھی جائے گی۔
تنظیم نے اکشردھام مندر حملہ کیس کا حوالہ بھی دیا، جس میں نچلی عدالتوں سے سخت سزائیں سنائے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے بعد میں ملزمان کو بری کیا تھا اور تفتیشی عمل پر سوالات اٹھائے تھے۔
گجرات حکومت کا ردعمل
گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سانگھوی نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کے خلاف سخت پیغام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ دہشتگردی میں ملوث عناصر کے لیے ’زیرو مرسی‘ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق عدالت نے استغاثہ کے دلائل، شواہد اور خصوصی عدالت کے فیصلے کو درست تسلیم کیا ہے۔
قانونی اہمیت
یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ بھارتی عدالتی تاریخ میں ایک ہی مقدمے میں اتنی بڑی تعداد میں سزائے موت برقرار رکھنے کے واقعات بہت کم ہیں۔
خصوصی عدالت کی جانب سے 2022 میں دی گئی سزاؤں کے بعد یہ معاملہ ہائی کورٹ میں آیا، جہاں سزا یافتہ افراد نے اپنی سزاؤں کو چیلنج کیا جبکہ ریاستی حکومت نے سزائے موت کی باضابطہ توثیق چاہی۔
ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد قانونی راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔ بھارتی قانون کے تحت سزائے موت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کا مرحلہ انتہائی اہم ہوتا ہے، جہاں شواہد، قانونی طریقہ کار، تفتیشی کمزوریاں، اعترافی بیانات اور سزا کی شدت جیسے نکات کا ازسرنو جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
احمدآباد دھماکا کیس کا تازہ فیصلہ صرف ایک عدالتی حکم نہیں بلکہ بھارت کے عدالتی نظام، انسداد دہشتگردی قوانین، اقلیتی حقوق اور فوجداری انصاف کے معیار سے جڑا ایک بڑا قانونی مرحلہ ہے۔
اس کیس میں 38 سزائے موت اور 11 عمر قید برقرار رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کے بنیادی نتائج کو درست مانا، لیکن چونکہ معاملہ سزائے موت کا ہے، اس لیے سپریم کورٹ میں اس کی جانچ مزید سخت قانونی معیار پر ہو گی۔
بھارت میں انسداد دہشتگردی مقدمات پر پہلے بھی انسانی حقوق تنظیمیں اور دفاعی وکلا سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ کئی مقدمات میں برسوں بعد ملزمان بری ہوئے، جبکہ کچھ مقدمات میں عدالتوں نے تفتیشی اداروں کی کارکردگی پر سخت ریمارکس دیے۔ اسی وجہ سے احمدآباد کیس کا اگلا مرحلہ سپریم کورٹ میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔