آؤ ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں، ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا دوٹوک جواب

آؤ ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں، ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا دوٹوک جواب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے اہم تیل بردار مرکز جزیرہ خارگ پر ممکنہ حملے کی دھمکی کے بعد ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی سمیت اعلیٰ حکام نے امریکا کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

ابراہیم رضائی نے اپنے بیان میں امریکی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا آؤ، ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور سرزمین کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مہذب اور بہادر ایرانی قوم کے لیے توہین آمیز زبان استعمال کرنے سے ایران کی عظمت یا وقار میں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی شائستگی، ثقافت اور مضبوط اخلاقی اقدار کی بنیاد پر دنیا میں پہچانا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نادرا کی نئی مفت سہولت، بغیر کسی فیس کے فوری فائدہ اٹھائیں

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اشتعال انگیزی کے باوجود غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بیہودگی کا جواب بیہودگی سے نہیں بلکہ بے خوفی عظیم حوصلے اور عملی اقدامات سے دیتے ہیں۔

ادھر ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر محسن رضائی نے بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کی سخت سزا دی جائے گی اور اس کے نتائج حملہ آوروں کو بھگتنا ہوں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت اعتماد پر نہیں بلکہ وعدوں کی پاسداری کی بنیاد پر تھی تاہم امریکا اپنے طرزعمل سے خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں مسائل پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران اپنے قومی مفادات علاقائی سلامتی اور سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں خبردار کیا تھا کہ اگر بحری جہازوں پر حملوں جیسے واقعات دوبارہ پیش آئے تو ایران کے خلاف کارروائی پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور سنگین ہوگی۔ اس بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان لفظی جنگ میں مزید شدت آ گئی ہے جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔

editor

Related Articles