نہ دریا، نہ ندی، پھر بھی کیسے پہنچی؟جیلی فش جس نے سب کو حیران کر دیا

نہ دریا، نہ ندی، پھر بھی کیسے پہنچی؟جیلی فش جس نے سب کو حیران کر دیا

سائنس دانوں نے پہلی بار پیراگوئے میں میٹھے پانی کی ایک نایاب جیلی فش کی موجودگی ریکارڈ کر لی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ ننھی مخلوق ایک ایسی سیلاب زدہ اور ویران کان سے ملی ہے جس کا کسی دریا، ندی یا قدرتی آبی راستے سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

یہ دریافت کراسپیڈاکوسٹا سووربئی نامی میٹھے پانی کی جیلی فش کی ہے، جسے نیشنل یونیورسٹی آف اسونسیون کے فیکلٹی آف ایکزیکٹ اینڈ نیچرل سائنسز سے وابستہ محقق گونزالیز دے دوس سانتوس نے یپاکارائی کے علاقے میں دریافت کیا۔

یہ بھی پڑھیں :چرس استعمال کرنے والوں کوملاریلیف،سپریم کورٹ کا انوکھا فیصلہ

تحقیق کے مطابق یہ پیراگوئے میں اس نوع کی پہلی باضابطہ رپورٹ ہے، جسے سائنسی جریدے ’ایکو سسٹیماس‘ میں شائع کیا گیا ہے۔ اگرچہ اسے جیلی فش کہا جاتا ہے، لیکن یہ سمندر میں پائی جانے والی عام جیلی فش سے مختلف ہوتی ہے اور میٹھے پانی کے ماحول میں زندہ رہتی ہے۔

ماہرین کے لیے سب سے بڑا معمہ یہ ہے کہ یہ جاندار ایک بند اور الگ تھلگ کان تک کیسے پہنچا، کیونکہ وہاں کسی دریا یا ندی کا راستہ موجود نہیں۔

یہ بھی پڑ ھیں :راجستھان سے دوگنا بڑا برفانی حصہ غائب، دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ جیلی فش ممکنہ طور پر انسانی سرگرمیوں کے ذریعے وہاں پہنچی ہو گی۔ آلودہ پانی، غوطہ خوری کے آلات یا دیگر سامان کے ذریعے اس کے ننھے انڈے یا جاندار ایک آبی مقام سے دوسرے مقام تک منتقل ہو سکتے ہیں۔

یہ دریافت نہ صرف ایک نایاب آبی مخلوق کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ چھوٹے جاندار غیر متوقع طریقوں سے نئے ماحول تک پہنچ سکتے ہیں۔

editor

Related Articles