سینیٹر فیصل واوڈا نے پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگنے کا دعویٰ کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگنے جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کے معاملے پر اپنے پائوں پر کلہاڑا مار لیا ہے۔ سپریم کورٹ کے باہر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں سیاسی جماعتوں پر پابندی کا حامی نہیں ہوںلیکن جو پاکستان مخالف ہوں ان پر پابندی ضرور لگنی چاہئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف بین ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
ایم کیو ایم لندن نے بھی وہی کیا تھا جو آج پی ٹی آئی نے کیا۔فیصل واوڈا نے ایک اور دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہیں مل سکتیں اس کے علاوہ پاکستان میں ہر چیز ہوسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے بہترین دفاع کیلئے فوج اور خفیہ داراوں کی مضبوطی ضروری ہے، عدلیہ کیساتھ فوج اور خفیہ اداروں کی مضبوطی کا انحصار عوامی تائید پر ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی پر پابندی، سابق صدر عارف علوی کابڑا بیان آگیا
دوسری جانب سینیٹر فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں غیر مشروط معافی مانگنے سے انکار کردیا ہے جب کہ ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے سپریم کورٹ سے معافی مانگ لی ہے۔ فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ کو 16 صفحات پر مشتمل اپنے جواب میں کہا کہ ان کی پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین نہیں بلکہ ملک کو بہتر بنانا تھا۔ انہوں نے رؤف حسن، مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف کی تقاریر کے ٹرانسکرپٹ بھی پیش کیے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے عدلیہ پر بھی تنقید کی تھی۔

