ٹریل فائیو پر لاپتہ ہو کر جاں بحق ہونیوالے طالبعلم کے کیس میں نئی پیشرفت سامنے آگئی ۔ طحہ کی والدہ نے مقدمے میں 302 کی دفعات شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔
تفصیلات کے مطابق طحہ کی والدہ نے اپنے بیٹے کی موت میں شک و شہبہ کا اظہار کرتے ہوئے کیس میں نئی دفعات شامل کرنے کی درخواست کی ہے۔ تاہم تحقیقاتی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے مرحوم کی والدہ کے بیان سے قبل ہی دفعہ 302 کے تحت تحقیقات شروع کر دی تھیں۔
یہ بھی پرھیں: پی ٹی آئی اور جمعیت علمائے اسلام ف میں قربتیں ، حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی تیاری
تفتیش کاروں کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر تشدد یا تشدد کے کوئی نشانات نہیں تھے۔ نمونے ٹاکسیکولوجی رپورٹ کے لیے بھیجے گئے ہیں اور تمام مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ ٹیم نے اس بات پر زور دیا کہ کسی کو بھی بغیر ثبوت کے گرفتار نہیں کیا جا سکتا، بھلے ہی ایف آئی آر میں ان کا نام درج ہو۔
خیال رہے گزشتہ روزوفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی مارگلہ ہلز سے مردہ حالت میں ملنے والے طحٰہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی تھی ۔رپورٹ کے مطابق 15 سالہ طالب علم طحٰہ کی لاش گزشتہ دنوں مارگلہ کے ہائیکنگ ٹریل 5 سے ملی تھی، وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مارگلہ ہلز پر گھومنے کیلئے گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: زرتاج گل قومی اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی لیڈر مقرر
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا کہ طحہٰ کے جسم كی تمام ہڈیاں سلامت ہیں ، کسی قسم کے تشدد اور زخم کے نشانات نہیں، طحہٰ کے جسم پر کسی قسم کے تیز دھار آلے کے نشانات بھی نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طحہٰ کے جسم کے نمونے پنجاب فارنزک لیب لاہور بھجوا دیے گئے ہیں جس كی رپورٹ آنا باقی ہے۔ طالب علم طحہٰ کی موت کی وجہ ڈی ہائیڈریشن یا حرکت قلب بند ہونا ہوسکتی ہے۔

