پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے جبکہ حکومت کے اس فیصلے پر عوامی اور تجارتی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں استحکام اور بعض مواقع پر کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کر دیا گیا جس نے مہنگائی سے پہلے ہی پریشان عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ میں متفرق درخواست جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق کی جانب سے دائر کی گئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں پہلے ہی انتہائی بلند سطح پر پہنچ چکی ہیں جبکہ حکومت مسلسل پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں اضافہ کرکے عوام پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے جو آئین اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا، اس کے باوجود حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ اشیائے خورونوش، کرایوں صنعتی لاگت اور بجلی کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ ہوگا جس سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ عوام پہلے ہی بجلی، گیس اور روزمرہ ضروریات کی بلند قیمتوں سے شدید متاثر ہیں، ایسے میں پیٹرول مہنگا کرنا معاشی مشکلات میں مزید اضافے کے مترادف ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کالعدم قرار دیا جائے اور حکومت کو عوام پر اضافی لیوی عائد کرنے سے روکا جائے۔
حکومت نے بنیادی قیمت کے بجائے زیادہ بوجھ پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کے ذریعے ڈالا ہے جس کے باعث عوام کو عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ نہیں پہنچ سکا۔