قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کو عام شہریوں خصوصاً کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مزید آسان اور مؤثر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک اور متعلقہ اداروں سے مالیاتی طریقہ کار میں نرمی لانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزارت خزانہ وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور وزارت قانون و انصاف کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے نفاذ، ہاؤسنگ فنانس اور متعلقہ قوانین میں اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سستی رہائش کی سہولت حقیقی معنوں میں مستحق اور کم آمدنی والے خاندانوں تک پہنچنی چاہیے، اس کے لیے شفاف، آسان اور جامع نظام ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں اعتماد بحال کرنے کے لیے ریکوری اور قانونی نظام کو بھی مؤثر بنانا ہوگا۔
وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام ایک سبسڈی پر مبنی اسکیم ہے جس کا مقصد کم اور متوسط طبقے کو اپنے گھر کی سہولت فراہم کرنا اور تعمیراتی صنعت کو فروغ دینا ہے۔ یہ منصوبہ اگست 2025 میں منظور ہوا جبکہ مارچ 2026 میں اس میں مزید بہتری کے لیے نظرثانی کی گئی۔
حکام کے مطابق اسکیم کے تحت پہلی مرتبہ گھر خریدنے والے افراد کو ایک کروڑ روپے تک فنانسنگ فراہم کی جا رہی ہے جس پر صرف 5 فیصد مقررہ مارک اپ لیا جائے گا اور ادائیگی کی مدت 20 سال رکھی گئی ہے۔ اس پروگرام میں 90 فیصد قرض جبکہ 10 فیصد رقم درخواست گزار کو خود ادا کرنا ہوگی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 30 اپریل 2026 تک پروگرام کے تحت 25 ہزار 304 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 8 ہزار 990 درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں۔ منظور شدہ فنانسنگ کا مجموعی حجم 37 ارب 15 کروڑ روپے سے زائد ہے جبکہ اب تک ایک ہزار 845 مستحق افراد کو 5 ارب روپے سے زائد رقم جاری کی جا چکی ہے۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کا شعبہ اب بھی انتہائی محدود ہے اور یہ مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.3 فیصد ہے۔ حکومت نے آئندہ چار برسوں میں 5 لاکھ گھروں کی فنانسنگ کا ہدف مقرر کیا ہے جس کے لیے تقریباً 3 اعشاریہ 2 کھرب روپے درکار ہوں گے۔