خیبر پختونخوا حکومت کا نگران دور میں مرتب کردہ 19 یونیورسٹییز کے وائس چانسلرز کے پینل کو ختم کرنے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت کا نگران دور میں مرتب کردہ 19 یونیورسٹییز کے وائس چانسلرز کے پینل کو ختم کرنے کا فیصلہ

(تیمور خان)

خیبر پختونخوا حکومت نے نگران دور میں مرتب کردہ 19 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے پینل میں من پسند اور مرضی کے امیدوار نہ ہونے کے باعث پورے عمل کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا از سر نو جائزہ لینے کیلئے کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔

خیبر پختونخوا میں پہلے 13 جامعات کے وائس چانسلرز کی تقرری کیلئے اشتہار مشتہر ہوا تاہم بعد میں یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، اشتہار پی ٹی ائی کے سابق حکومت کے دوران مشتہر ہوا تھا تاہم حکومت مستعفی ہوگئی اور نگران حکومت نے وائس چانسلرز کی تعیناتی کا عمل جاری رکھا جس پر محکمہ قانون نے الیکشن کمیشن سے این او سی نہ لینے کی رائے دی کہ پراسیس پہلے سے شروع ہے لیکن ایڈوکیٹ جنرل نگران حکومت کے پاس مینڈیٹ نہ ہونے کا موقف دے چکے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ نگران دور حکومت میں اکیڈمک اینڈ سرچ کمیٹی کو اپنے من پسند افراد کی تعیناتی کیلئے رجوع کیاگیا تو اس کے بعد چیئرمین کمیٹی اور تین ممبران نے استعفے دئیے ، نگران وزیر اعلی اعظم خان کی وفات کے بعد جسٹس (ر) ارشد حسین نئے نگران وزیر اعلی منتخب ہوئے تو اکیڈمک اینڈ سرچ کمیٹی کے ممبران کی تعیناتی کردی گئی۔ جس پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہے کہ نگران حکومت کے پاس کمیٹی ممبران کی تعیناتی کا اختیار نہیں تھا۔ تعیناتی کے عمل کو جلدی مکمل کرکے ہر ایک یونیورسٹی کیلئے تین امیدواروں کو شارٹ لسٹ کردیا لیکن پینل میں اول نمبر پر انے والے کسی بھی امیدوار کوحکومت کی جانب سے افر لیٹر نہیں ملا ہے ( اور اسی ہی نقطے کوموجودہ حکومت نے تعیناتی کے عمل کو منسوخ کرنے کی بنیاد بنالیا )۔ نگران حکومت کے چند روز باقی تھے تاہم نگران کابینہ سے سرکلر کے زریعے منظوری لی گئی لیکن چیف سیکرٹری کو عملدرآمد روکنے کا مشورہ دیاگیا جس کے بعد انہوں نے منتخب حکومت کے قیام تک اس عمل کو روک دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعلی علی امین گنڈا پور تین امیدواروں کی فہرست میں اپنی مرضی کی تقرری کرنا چاہتے ہیں لیکن سپریم کورٹ فیصلے کے تحت ایسا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پہلے نمبرپر انے والے امیدوارکی تقرری ضروری ہے اور اگر پہلے والے کو تعینات نہیں کیا جاتا تو اس کے ٹھوس وجوہات دینے ہوں گے تاہم حکومت نے سوچ وبچار کے بعد یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ اس عمل کو منسوخ کرکے دوبارہ سے عمل شروع کرلیں گے لیکن اس کی منسوخی کابینہ کے زریعے کی جائے گی جس کیلئے محکمہ اعلی تعلیم نے سمری ارسال کردی ہے۔ رابطہ کرنے پر سیکرٹری ایچ ای ڈی کامران افریدی نے بتایا کہ کابینہ کے پاس معاملہ گیا ہے اور وہ ہی اس پر فیصلہ کریں گے وہ جو بھی فیصلہ کرتی ہے ان کا اختیار ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *