مسلیم لیگ ن کی صوبائی جنرل سیکریٹری برائے خواتین ونگ خیبرپختونخوا فرح خان ایڈووکیٹ نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے بارے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کل بھی ہیڈلیس پارٹی تھی اور آج بھی ہیڈلیس پارٹی ہے۔سنی اتحاد المعروف پی ٹی آئی نے بن مانگے ایسا فیصلہ لیا جس کا آئین و قانون سے کوئی تعلق نہیں۔
مخصوص نشستوں کےحوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے بارے کہا ہے معزز عدالتوں کے ہر فیصلے کا دل سے احترام کرتے ہیں تاہم پی ٹی آئی کل کی طرح آج بھی انٹرا پارٹی الیکشن کے حوالے سے آج بھی نا اہل ہے، انکا کہنا تھا کورٹ انٹرا پیٹیشن، پروگریسیو انٹراپٹیشن و ریزنیبل انٹراپٹیشن کے اشارے دینے والے کو بن مانگے نوازا جارہا ہے۔پارلیمان میں موجود سنی اتحاد کا پارلیمانی وجود ختم کر دیا گیا ہے۔ایڈوکیٹ فرح خان کا کہنا ہے کہ بھولی بسری ہیڈلیس پی ٹی آئی کو پارلیمان کا راستہ دکھایا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سولر سکیم کیلئے کیسے اپلائی کریں؟ تمام تفصیلات سامنے آگئیں
مسلم لیگ ن کی صوبائی جنرل سیکریٹری برائے خواتین ونگ خیبرپختونخوا فرح خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کل کی طرح آج بھی انٹرا پارٹی الیکشن میں ڈسکوالیفائیڈ ہے اور کس بھی قانون کے تحت بغیر نشان کے الیکشن لڑے ڈسکولیٹاڈ سیاسی جماعت کو پارلیمانی پارٹی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی کل بھی ہیڈلیس پارٹی تھی اور آج بھی ہیڈلیس پارٹی ہے۔ پی ٹی آئی اُمیدواروں نے عام انتخابات میں نامزدگی فارم جمع ہی نہیں کروائے ۔
صوبائی جنرل سیکریٹری برائے خواتین ونگ خیبر پختونخواہ نے کہا کہ پی ٹی ائی مقدمے میں کسی بھی سطح پر فریق نہیں تھی۔ ملک و قوم کی ترقی میں قانون کے مطابق فیصلے ریڑ کی ہڈی کی حیثیت رہتے ہیں، کیا اب فیصلے صرف پسندگی کی بناء پر ہونگے؟ خواتین و غیر مسلموں کی مخصوص نشستیں بے وقعت ہوکر رہ گئیں ہیں۔

