ماہ رنگ لانگو کو گوادر احتجاج میں ایف سی اہلکار شبیر بلوچ کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی

ماہ رنگ لانگو کو گوادر احتجاج میں ایف سی اہلکار شبیر بلوچ  کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی

بلوچستان میں بدامنی، ریاستی اداروں پر حملوں اور عسکریت پسندی کی سہولت کاری کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی نظام کی مشترکہ کارروائیوں میں انتہائی اہم اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

بلوچستان حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی مرکزی سربراہ ماہ رنگ لانگو کو پیر کو گوادر میں سال 2024 کے راجی مُچی احتجاج کے دوران فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک اہلکار شبیر بلوچ کے قتل میں ملوث ہونے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ مارچ گوادر کے پرامن علاقے میں پہنچا تو ماہ رنگ لانگو اور صبغت اللہ شاہ کی قیادت میں حیوانیت کی ایک نئی داستان لکھی گئی۔ جب ڈیوٹی پر معمور ایف سی کے جوان شبیر بلوچ کو انتشاریوں نے گھیرا اور پتھروں کے وار سے اس کی جان لے لی، اس کے بعد اس کی لاش کی بے حرمتی بھی کی۔

یہ بھی پڑھیں:ماہ رنگ بلوچ اور ایمان مزاری کے ’’لاپتہ افراد‘‘ میں شامل ایک اور شخص بی ایل اے کمانڈر نکلا

2 سال کی طویل قانونی جنگ کے بعد جس میں ماہ رنگ لانگو اور اس کے حواریوں نے ججوں کو دھمکایا اور  کیس میں خلل ڈالنے کی بے پناہ کوشش کی، آج کوئٹہ کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے فتنہ الہندستان کی ریکروٹمنٹ ایجنٹ ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

دوسری جانب، تربت کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے ایک اور سنگین مقدمے میں کالعدم تنظیموں کے اہم کارندے ساجد احمد کو بھی مجموعی طور پر21 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ماہ رنگ بلوچ کی سزا اور 15 ماہ کی قید

ذرائع کے مطابق  ماہ رنگ بلوچ کے خلاف یہ فیصلہ بلوچستان میں تشدد، ہنگامہ آرائی اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف جاری گرینڈ آپریشن کے تسلسل میں آیا ہے۔

ماہ رنگ بلوچ جو طویل عرصے سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بینر تلے متنازع سرگرمیوں کی قیادت کر رہی ہیں، مارچ 2025 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گرفتار کی گئی تھیں اور وہ اب تک تقریباً 15 ماہ جیل میں گزار چکی ہیں۔

اگرچہ اعلیٰ حکام نے ان کی سزا کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے، تاہم سزا کی معین مدت اور اس کے نفاذ کے لیے لاگو کی جانے والی درست قانونی دفعات کی تفصیلی رپورٹ عدالتی فیصلے کی نقل جاری ہونے کے بعد پبلک کی جائے گی۔

مزید پڑھیں:بلوچ یکجہتی کمیٹی کے 150 کارکنوں کے حراستی احکامات واپس، ماہ رنگ بلوچ سے متعلق بھی اہم فیصلہ

حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی صوبے میں امن و امان کے قیام اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے پختہ عزم کا اظہار ہے۔

ساجد احمد کا کیس اسلحہ برآمدگی اور خودکش حملے کی منصوبہ بندی

اسی دوران، تربت کی انسدادِ دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور دہشتگردی پھیلانے کے ایک علیحدہ اور سنگین مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم ساجد احمد کو 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

استغاثہ نے عدالت کو ٹھوس شواہد کے ساتھ بتایا کہ ساجد احمد کا تعلق براہِ راست کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) جیسے دہشت گرد گروہوں سے تھا۔

مجرم کو سیکیورٹی فورسز نے پنجگور میں ایک انتہائی خفیہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران خودکار اسلحے اور بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔

تفتیش میں یہ بات ثابت ہوئی کہ مجرم کو بلوچستان میں ایک خوفناک خودکش حملے کے لیے گاڑی تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا، جسے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنایا گیا۔

تعلیمی اداروں میں بھرتی کا نیٹ ورک

عدالتی کارروائی کے دوران تفتیشی اداروں نے ہولناک انکشاف کیا کہ مجرم ساجد احمد بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پلیٹ فارم کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتا تھا۔

وہ اس تحریک کی آڑ میں معصوم طلبہ کو گمراہ کرنے، ریاست کے خلاف نفرت پھیلانے اور انہیں کالعدم تنظیموں کے مسلح ونگز میں بھرتی کرنے کے منظم نیٹ ورک کا حصہ تھا۔

اس کے علاوہ، وہ بیرونِ ملک بیٹھے ملک دشمن عناصر سے مالی فنڈنگ اور اسٹریٹجک ہدایات بھی وصول کر رہا تھا۔ انسدادِ دہشت گردی کی سزا کے ساتھ ساتھ، عدالت نے ‘بلوچستان آرمز ایکٹ’ کے تحت غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور اس کی اسمگلنگ کے جرم میں ساجد احمد کو مزید 7 سال قید کی اضافی سزا بھی سنائی۔

معزز عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں دوٹوک الفاظ میں لکھا کہ ‘دہشت گردی کو فروغ دینے یا اس کی سہولت کاری کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جا سکتی’۔

Related Articles