خیبر پختونخوا حکومت نے توانائی کااستعمال کم کرنے کیلئے صنعتی اداروں اور تجارتی عمارات کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے
تیمور خان
خیبر پختون خواہ صوبائی حکومت نے تعمیر ہونے والے صنعتوں اور عمارات کیلئے نقشوں کی منظوری بھی انسپکٹوریٹ آف الیکٹریسٹی کے اجازت نامے سے مشروط کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔نئی تعمیرات کیلئے یہ قاعدہ بھی وضع کیا جا رہا ہے کہ ان میں نصب ہونے والے بجلی کے تمام آلات کا آڈٹ کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا جائیگا کہ آیا وہ کم سے کم بجلی استعمال کرنے کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔ ان آلات کی تنصیب کی اجازت بھی ان کی موزونیت کی بنیاد پر ہی دی جائے گی۔
صوبائی انسپکٹوریٹ آف الیکٹریسٹی کے انسپکٹر احسان خٹک کا کہنا ہے کہ نیشنل انرجی ایفی شینسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی ایکٹ کے تحت صوبوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ توانائی کو محفوظ کرنے اور اس کے استعمال کو کم سے کم کرنے کے اقدامات اٹھائیں گے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے “اس کام کیلئے مکمل منصوبہ بندی کرلی ہے”۔ اس کام کے پہلے مرحلے میں صنعتوں، دوسرے مرحلے میں تجارتی مراکز اور دکانوں، تیسرے مرحلے میں سرکاری عمارتوں اور اخری مرحلے میں گھروں میں توانائی کے استعمال کو کم سے کم کرنے کے طریقے متعارف کرائے جائیں گے۔
ان کے مطابق توانا ئی کی بچت کرنے اور اس کے استعمال کو کم سے کم کرنے سے نہ توتوانائی کی پیداوار میں اضافہ کرنا پڑے گا اور نہ ہی اس کی ترسیل اور تقسیم کا نظام بہتر بنانا پڑے گا۔ “اس سے صنعتوں کے مالکان کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ اس کے نتیجے میں ان کا بجلی کا بل آدھا رہ جائے گا”۔
احسان خٹک کا دعویٰ ہے کہ ان کے محکمے کے پاس ایسا تجربہ کار عملہ موجود ہے جو جگہ جگہ دورہ کرکے لوگوں کو تجاویز دے گا کہ ان کی عمارات اور فیکٹریوں میں بجلی کے استعمال میں کس طرح کمی لائی جا سکتی ہے۔عمارتوں اور فیکٹریوں کے مالکان کو “ان تجاویزپرعملدرآمد کرنے کا پابند بھی بنایا جائے گا”۔
دوسری طرف خیبر پختونخوامیں توانائی کا آڈٹ کرنے کی اہلیت رکھنے والی واحد کمپنی سنٹر فارانڈسٹریل اینڈ بلڈنگ انرجی اسسمینٹ کے ڈپٹی منیجر محمد علی کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں لوگوں کو توانائی کے استعمال میں بچت کرنے کے تصور سے زیادہ آگاہی نہیں ہے لیکن بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث صنعتی شعبے میں تیزی سے اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اس لیے بہت سے صنعت کار خود ان سے رابطہ کر کے پوچھ رہے ہیں کہ وہ اپنے اداروں میں بجلی کے استعمال میں کس طرح کمی لا سکتے ہیں۔ اب تک ان کی کمپنی نے جن صنعتی اداروں کا آڈٹ کیا ہے ان کے توانائی کے استعمال میں پچیس فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ایک صنعتی ادارے یا عمارت میں استعمال ہونے والی توانائی کا آڈٹ کرنے پر چار سے پانچ لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں اور اسے مکمل کرنے میں پانچ سے سات دن لگتے ہیں جبکہ اس کی رپورٹ تیار کرنے میں مزید پندرہ سے بیس دن لگ جاتے ہیں۔ “اس آڈٹ کے دوران ہم دیکھتے ہیں کہ ایک صنعتی ادارے میں کس قسم کی مشینری استعمال کی جارہی ہے اور اس میں بجلی سے چلنے والے آلات کی کارکردگی کیسی ہے۔ کہیں ان میں کوئی نقص تو نہیں جس کے نتیجے میں توانائی ضائع ہو رہی ہو”۔
مزید پڑھیں: عوام کو 200 یونٹ تک مفت بجلی دینا ممکن نہیں، وفاقی وزیر توانائی
ذرائع کے مطابق صوبے میں نقشے منظور کرانے والے محکموں کے پاس الیکڑیکل انجنیئرزہے نہ ہی انہیں موثر انرجی استعمال کے بارے میں آگاہی ہے جب تک انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ(ای سی بی سی) کو قانونی شکل نہیں دی جاتی تو اس پر عملدرآمد کرانا ناممکن ہے ۔
مزید پڑھیں: فیصلہ ہوگیا ہے کہ عمران خان یاپی ٹی آئی اب پاکستان کے ساتھ اکٹھے نہیں چل سکتے، منیب فاروق
انجنیئرنگ یونیورسٹی میں لیکچرر ملک زاہد کے مطابق انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ انڈیا اور بنگلہ دیش سے لیاگیاہے جس میں پاکستان کے ماحول کی مناسبت سے ترامیم ضروری ہے اور ساتھ میں متعلقہ محکموں کے سول انجنیئرز کو انرجی سے متعلق تربیت دینا لازمی ہے تب اس پر عملدرآمد ممکن ہوگا۔