آپریشن سندور کی ناکامی کا ایک سال مکمل، مودی سرکار کا اپنی ہی فوج پر کڑا وار، آرمی اور نیول چیف برطرف

آپریشن سندور کی ناکامی کا ایک سال مکمل، مودی سرکار کا اپنی ہی فوج پر کڑا وار، آرمی اور نیول چیف برطرف

بھارت میں ‘آپریشن سندور’ کی بدترین ناکامی کو ایک سال مکمل ہونے پر مودی حکومت نے اپنی عسکری قیادت کے خلاف بڑا ایکشن لے لیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے خاموش پیغام رسانی کے تحت اپنے آرمی اور نیوی چیف کو عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔ اس اقدام کو بھارتی مسلح افواج میں بڑھتی ہوئی ’زعفرانائزیشن‘ (ہندوتوا اثر و رسوخ) اور آپریشنل نااہلی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ہندوتوا سوچ اور میرٹ کی قربانی

رپورٹس کے مطابق بھارتی مسلح افواج کے سینیئر رینک میں اس وقت شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سبرا مانی، جن کی واحد شہرت ان کی انتہا پسند ہندوتوا سوچ اور مودی و راجناتھ سنگھ سے قربت ہے، انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فور اسٹار دے کر نوازا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے بہت مارا، بھارتی آرمی چیف کے منہ سے سچ نکل آیا

 اسی طرح موجودہ آرمی چیف جنرل دویدی بھی اپنی پیشہ ورانہ قابلیت کے بجائے مذہبی اسناد کی بنیاد پر پسندیدہ قرار دیے گئے تھے تاہم آپریشن سندور کی تلخ شکست نے ان کے کیریئر کا خاتمہ کر دیا۔

سی ڈی ایس اور آرمی چیف کی نااہلی

بھارت کے باخبر حلقوں کا دعویٰ ہے کہ آپریشن سندور کی ذلت آمیز ناکامی کی بڑی وجہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان اور آرمی چیف جنرل دویدی کی نااہلی اور حد سے زیادہ سیاسی وابستگی تھی۔ میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے افسران کو ترقی دی گئی جنہیں پہلے 4 اسٹار کے لیے موزوں بھی نہیں سمجھا جاتا تھا، مگر ان کی مذہبی و سیاسی وفاداری کام آگئی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی مودی سرکار نے ’آپریشن سندور‘ کی ناکامی کے ایک سال مکمل ہونے پر فوج میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ بچھاڑ کرتے ہوئے آرمی اور نیول چیف کو برطرف کر دیا ہے جبکہ سابق وائس چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل این ایس راجا سبرامنی (ریٹائرڈ) کو نیا چیف آف ڈیفنس اسٹاف جبکہ وائس ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن کو نیا نیول چیف مقرر کر دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل سبرامنی، جنرل انیل چوہان کی جگہ سنبھالیں گے ، جبکہ وائس ایڈمرل سوامی ناتھن ایڈمرل دنیش کمار تریپاٹھی کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھارتی بحریہ کی کمان سنبھالیں گے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ تقرریاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف لانچ کیے گئے ’آپریشن سندور‘ کی ناکامی کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے  اور اس ناکامی پر بھارتی عسکری قیادت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں:’پہلگام فالس فلیگ ‘ وہ سچ جو مودی سرکار چھپانا چاہتی تھی، بھارتی فوجیوں کی عبرت ناک کہانی سامنے آگئی

رپورٹ کے مطابق اس متنازع فوجی آپریشن کے بعد اعلیٰ عسکری سطح پر فیصلوں اور ترقیوں کے حوالے سے مسلح افواج کے اندر بے چینی پائی جاتی ہے۔ تاہم بھارتی حکومت نے فوج میں اعلیٰ پیمانے پر اس اکھاڑ بچھاڑ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

بعض ریٹائرڈ فوجی افسران اور سیاسی مبصرین نے کہا ہے کہ حکومت عسکری قیادت میں ایسے افسران کو ترجیح دے رہی ہے جنہیں حکمران جماعت کے نظریاتی طور پر قریب سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ الزامات تاحال غیر مصدقہ اور سیاسی نوعیت کے قرار دیے جا رہے ہیں۔

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل راجا سبرامنی ’مزید احکامات تک‘ چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں گے اور ساتھ ہی سیکریٹری، محکمہ عسکری امور کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں گے۔ موجودہ قواعد کے مطابق ’سی ڈی ایس‘ کی عمر کی حد 65 سال مقرر ہے، جبکہ حکومت ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کو بھی اس عہدے پر تعینات کر سکتی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل سبرامنی کون ہیں؟

لیفٹیننٹ جنرل سبرامنی دسمبر 1985 میں 8 گڑھوال رائفلز میں کمیشن حاصل کرنے کے بعد بھارتی فوج میں شامل ہوئے تھے۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے متعدد اہم عسکری اور اسٹرٹیجک ذمہ داریاں سنبھالیں، جن میں ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل او سی) والے علاقوں کی نگرانی کرنے والی سینٹرل آرمی کی کمان بھی شامل ہے۔

انہوں نے آسام میں نام نہاد ’آپریشن رائنو‘ کے دوران انسدادِ شورش کارروائیوں میں حصہ لیا، جموں کشمیر میں بریگیڈ کی قیادت کی اور مغربی محاذ پر بھارتی فوج کے اہم اسٹرائیک کور ’2 کور‘ کی کمان بھی سنبھالی۔ وہ قازقستان میں دفاعی اتاشی کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ گزشتہ برس ستمبر میں وہ نیشنل سکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ میں ملٹری ایڈوائزر مقرر ہوئے تھے۔

دوسری جانب وائس ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن، جو جولائی  میں بھارتی بحریہ میں شامل ہوئے، مواصلاتی اور الیکٹرانک وارفیئر کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

تقریباً 4 دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں انہوں نے کئی اہم جنگی بحری جہازوں اور بحری فارمیشنز کی کمان کی، جن میں طیارہ بردار جہاز ’آئی این ایس‘ وکرمادتیہ اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر میسور شامل ہیں۔

وہ نیشنل ڈیفنس اکیڈمی، برطانیہ کے جوائنٹ سروسز کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اور امریکی نیول وار کالج کے فارغ التحصیل ہیں جبکہ اس وقت ویسٹرن نیول کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ دونوں تقرریاں حالیہ برسوں میں بھارتی عسکری قیادت میں ہونے والی اہم ترین تبدیلیوں میں شمار کی جا رہی ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ علاقائی سیکیورٹی صورتحال اور بھارت کی دفاعی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کریں گی۔

Related Articles