کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو xivنے امریکا کی 250ویں یومِ آزادی تقریبات میں شرکت کی دعوت مسترد کر کے ایک غیر معمولی اور علامتی قدم اٹھایا ہے، جس نے عالمی سطح پر سیاسی اور مذہبی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پوپ لیو 4 جولائی کو امریکا میں ہونے والی مرکزی تقریب میں شریک ہونے کے بجائے یورپ میں ایک ایسے مقام پر وقت گزاریں گے جہاں مہاجرین داخل ہوتے ہیں۔
میڈیا کے مطابق ویٹیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ محض ایک مصروفیت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک واضح اخلاقی اور انسانی پیغام ہے، جس کے ذریعے پوپ دنیا کی توجہ مہاجرین کے بحران کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ پالیسیوں پر تنقید، پوپ لیو عالمی توجہ کا مرکز بن گئے،مقبولیت بڑھنے لگی
اس سے قبل اپنے ایک بیان میں پوپ لیو نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی قسم کے عوامی مباحثے یا تنازع سے گریز کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی ترجیح ذاتی یا سیاسی محاذ آرائی نہیں بلکہ امن کا فروغ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کے حالیہ بیانات کو سیاسی رنگ دے کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔
پوپ لیو نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا حالیہ دورۂ افریقہ بھی امن، ہم آہنگی اور بین الاقوامی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے تھا، نہ کہ کسی ملک یا قیادت پر تنقید کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی قیادت کو انسانی مسائل، خصوصاً مہاجرین اور جنگ سے متاثرہ افراد کی بحالی پر توجہ دینی چاہیے۔
سفارتی کشیدگی
پوپ لیو کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ویٹیکن اور واشنگٹن کے تعلقات گزشتہ کئی مہینوں سے تناؤ کا شکار ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس کشیدگی کی بنیادی وجوہات امریکا کی سخت امیگریشن پالیسیاں اور ایران میں جاری تنازعات سے متعلق اختلافات ہیں۔
اطلاعات یہ بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکی محکمہ دفاع کے حکام نے ہولی سی یعنی ویٹیکن کو بعض معاملات پر سخت پیغامات بھی دیے تھے، جس سے دونوں فریقین کے درمیان سفارتی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔
مبصرین کے مطابق یہ صورتحال غیر معمولی ہے کیونکہ ماضی میں ویٹیکن اور امریکا کے تعلقات عمومی طور پر متوازن اور تعاون پر مبنی رہے ہیں۔

