وزارت داخلہ نے پاکستان میں سائبر کرائم واقعات کی تعداد میں مسلسل اضافے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ تین برس میں ملک میں سائبر کرائم واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزارتِ داخلہ نے قومی اسمبلی میں سائبر کرائم کے حوالے سے گزشتہ تین سال کی رپورٹ جمع کرواتے ہوئے اعتراف کیا ہےکہ حالیہ برسوں میں سائبر کرائم واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اور اس حوالے سے سائبر کرائم واقعات کی تعداد میں اضافے سے متعلق گزشتہ 3سالوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے ہاؤس کا آگاہ کیا گیا ہے کہ سال 2021 میں ایک لاکھ 15 ہزار 868 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے اسی ہزار آٹھ سو تین شکایات کی تصدیق ہوئی اور ان پر پندرہ ہزار سات سو چھیاسٹھ انکوائریاں کی گئیں اور بارہ سو تئیس ایف آئی آرز درج کی گئیں ، جبکہ 38 کیسز میں سزائیں ہوئیں ۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کا صوبے میں مالی بحران کے باوجود وزراء پر نوازشات کا سلسلہ جاری
وزارتِ داخلہ کے ریکارڈ کے مطابق سال 2022 میں ایک لاکھ 36 ہزار 24 شکایات موصول ہوئیں، 83 ہزار پانچ سو باون کیسز کی تصدیق ہوئی اور 14 ہزار تین سو اسی کیسز کی انکوائریاں ہوئیں جن میں 14سو 69 ایف آئی آرز ہوئیں اور اڑتالیس کیسز میں سزائیں ہوئیں ۔ اسی طرح سال 2023 میں ایک لاکھ 34 ہزار 710 شکایات موصول ہوئیں82 ہزار تین سو چھیانوے کیسز کی تصدیق ہوئی، جبکہ اٹھارہ ہزار بارہ کیسز کی انکوائریاں ہوئیں اور 13سو 75کیسز کی ایف آئی آرز ہوئیں اور 92 کیسز میں سزائیں ہوئیں ۔

