مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ’میٹا‘ نے اعلان کیا ہے کہ انسٹاگرام کے ڈائریکٹ میسجز (ڈی ایمز) میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فیچر 8 مئی 2026 کے بعد ختم کر دیا جائے گا۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’این گیجٹ‘ کے مطابق یہ فیچر کبھی بھی تمام صارفین کے لیے ڈیفالٹ پر دستیاب نہیں تھا، اس سے قبل صرف مخصوص ممالک کے صارفین ہر چیٹ کے لیے الگ سے اس فیچر کو فعال کر سکتے تھے۔
میٹا کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس فیچر کو ختم کرنے کی وجہ صارفین کا استعمال کم ہے ، بہت کم لوگ انسٹاگرام پر اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن استعمال کر رہے تھے، جو لوگ محفوظ اور انکرپٹڈ میسجنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں وہ واٹس ایپ استعمال کر سکتے ہیں، جہاں یہ فیچر پہلے سے ڈیفالٹ پر موجود ہے۔
میٹا نے سال 2016 میں واٹس ایپ چیٹس کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن متعارف کروائی تھی، سال 2019 میں مارک زکر برگ نے کہا تھا کہ ’کمپنی کی ایپس کو زیادہ پرائیویسی پر مبنی بنانا ضروری ہے، 2021 میں کمپنی نے کہا تھا کہ میسنجر میں انکرپشن کو مضبوط بنانے کے لیے مزید وقت درکار ہے اور یہ 2023 میں ڈیفالٹ فیچر کے طور پر آنا شروع ہوا تھا۔
’میٹا‘ کی انکرپشن پالیسی پر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بچوں کے تحفظ کی تنظیمیں تنقید کرتی رہی ہیں، کیونکہ سخت انکرپشن کی وجہ سے بچوں کو نشانہ بنانے والے مجرموں کو پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔
حال ہی میں نیو میکسیکو میں بچوں کی آن لائن حفاظت کے ایک مقدمے کے دوران یہ معاملہ دوبارہ سامنے آیا، اس دوران کمپنی کے خفیہ دستاویزات میں دیکھا گیا کہ میٹا کے حکام اور محققین سیکیورٹی اور پرائیویسی کے درمیان توازن پر بحث کرتے رہے۔
مارک زکر برگ نے کہا کہ ’حفاظتی مسائل کی وجہ سے میسنجر میں انکرپشن میں وقت لگا، لیکن زیادہ تر لوگ اسے مثبت سمجھتے ہیں، اب انسٹاگرام صارفین اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن استعمال نہیں کر سکیں گے لیکن وہ واٹس ایپ کے ذریعے محفوظ اور خفیہ چیٹ جاری رکھ سکتے ہیں۔
اسی سلسلے میں یورپین کیمشن بھی جلد انکرپشن سے متعلق ایک روڈ میپ پیش کرنے والی ہے، جس میں ایسے حل تلاش کیے جائیں گے جن سے قانونی تحقیقات کیلئے ڈیٹا تک رسائی ممکن ہو سکے، جبکہ سائبر سکیورٹی اور بنیادی حقوق بھی محفوظ رہیں۔