وزیر اعظم شہبازشریف کی ہدایت پر بجلی بلوں کی ادائیگی کی آخری تاریخ میں 10روز کا اضافہ کر دیا گیا۔
ترجمان کے مطابق لیسکو کی جانب سے جولائی کے بلوں کی ادائیگی کی تاریخ میں توسیع کی گئی ہے، تاریخ میں توسیع ہونے سے بلوں میں عدم ادائیگی پر عائد جرمانہ بھی ختم کر دیا گیا۔
لیسکو کے مطابق صارفین ویب سائٹس سے نیا بل وصول کر سکتےہیں۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں بجلی کے بھاری بھرکم بل عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنے ہوئے ہیں اور وہ بلوں کی ادائیگی کے لیے قرض لینے اور گھریلو اشیا فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ، بجلی کے زائد بلوں کے باعث بات صرف مالی مشکلات ہی نہیں بلکہ بل کے تنازع پرقتل اورخودکشیوں کے واقعات بھی پیش آچکے ہیں ۔
علاوہ ازیں میڈیا رپورٹس کے مطابق لیسکو سے صارفین کو بجلی کے زائد بھیجے جانے کا انکشاف سامنے آیا تھا ، ذرائع کاکہنا تھا کہ 200 یونٹ سےکم والے صارفین کومبینہ طورپرکروڑوں روپے بل دیے گئے۔
لیسکو نے 200یونٹ سے کم والے صارفین کو مبینہ طور پر زائد بل ڈالے جبکہ 190یونٹ کے بل میں اضافی یونٹ ڈال کر201یونٹ کابل بھجوایا گیا، جس سے 190 یونٹ کابل 3 ہزارروپے اور 201یونٹ کا بل 8ہزار ہوگیا۔
بجلی کے زائد بلز سے پروٹیکیٹڈ صارفین کی کیٹیگری تبدیل ہوگئی اور ان پرکروڑوں کااضافی بوجھ پڑا۔
ترجمان لیسکو نے اووربلنگ کے معاملے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ پروڈیٹابیس ایک خود کار سسٹم ہےجوکے30دن کی بلنگ کرتاہے، یہ ایک صاف شفاف سسٹم ہےجس سےمیٹرریڈرکی دخل اندازی ختم ہو گئی ، جون 2023میں لیسکو کے پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 2116984 تھی، جون 2024 میں پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 2179925 ہے اور روڈیٹاسسٹم کی وجہ سے مزید 62941 صارفین پروٹیکٹڈ کیٹگری میں شامل ہوئے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ مئی اورجون میں ہیٹ ویوکی وجہ بجلی کی کھپت میں اضافہ ہوا، بجلی کی زیادہ کھپت کے باوجود پروڈیٹا سسٹم کی وجہ سے30دن کی بلنگ ہوئی۔