پاکستان کی دفاعی تاریخ کے درخشاں باب ’معرکہ حق‘ میں کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر سندھ حکومت کے زیر اہتمام کراچی میں ایک پروقار یادگاری تقریب منعقد کی گئی۔
تقریب میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن، ارکان اسمبلی اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا اور معرکہ حق کی کامیابی پر مبنی دستاویزی فلم پیش کی گئی۔
دشمن جھکنے پر مجبور ہو گیا، بلاول بھٹو زرداری
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل پاک فوج نے بھارت کو بدترین شکست دے کر ثابت کیا کہ پاکستانی قوم کسی کے سامنے جھکنے والی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مئی 2025 میں فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے معرکۂ حق میں شاندار کامیابی حاصل کی، بلاول بھٹو زرداری
انہوں نے کہا کہ اس معرکے میں پوری قوم نے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا اور ہمارے سفارتکاروں نے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف جس مؤثر انداز میں پیش کیا، اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں پوری قوم نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا، افواج پاکستان نے جنگی میدان میں دشمن کو عبرتناک شکست دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سفارتکاروں نے بھی سفارتی محاذ پر بھرپور کردار ادا کیا اور دنیا کو مؤثر انداز میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ ہم نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ پاکستانی قوم جھکنے والی نہیں ہے۔ معرکہ حق میں کامیابی پوری قوم کی یکجہتی کا ثمر ہے اور دنیا کو بتا دیا گیا کہ پاکستان ایک مضبوط ملک ہے۔
رافیل طیاروں کی تباہی اور بھارتی پروپیگنڈے کی ناکامی: مراد علی شاہ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے انکشاف کیا کہ مئی کے پہلے ہفتے میں بھارت نے فوجی کارروائی کی جس کا پاکستان نے ایسا جواب دیا کہ دشمن کو اپنی اوقات یاد آگئی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی افواج نے دشمن کے جدید ترین ’رافیل‘ طیارے مار گرائے، جن پر بھارت کو بڑا فخر تھا۔ وزیراعلیٰ نے بھارتی میڈیا کے اس پروپیگنڈے کی بھی تردید کی کہ کراچی پورٹ کو نشانہ بنایا گیا، اور واضح کیا کہ پاکستانی میڈیا نے اس دوران انتہائی ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔
معرکہ حق اور مئی کی وہ فیصلہ کن گھڑیاں
یاد رہے کہ مئی 2025 کے پہلے ہفتے میں بھارت نے سرحد پار سے جارحیت کی کوشش کی اور ایک خاص آپریشن شروع کر کے اس کا الزام پاکستان پر دھرنے کی کوشش کی۔ اس نازک صورتحال میں پاکستان نے نہ صرف دفاعی بلکہ جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے دشمن کے فضائی بیڑے کو شدید نقصان پہنچایا۔
یہ معرکہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب پاکستان خطے میں امن کا علمبردار بن کر ابھرا تھا اور امریکا و ایران جیسے ممالک کو بھی مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا کلیدی سفارتی کردار ادا کر رہا تھا۔
دفاعی خود انحصاری اور سفارتی کامیابی کا سنگِ میل
’معرکہ حق‘ کا ایک سال مکمل ہونے پر اس کے اثرات آج بھی نمایاں ہیں، بھارت کے جدید ترین رافیل طیاروں کو مار گرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل طاقت صرف مشینوں کی نہیں بلکہ پائلٹس کی پیشہ ورانہ مہارت کی ہوتی ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ کسی بھی جدید اسلحے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آج کا مضبوط دفاع دراصل شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ایٹمی پروگرام اور شہید بینظیر بھٹو کے میزائل پروگرام کا تسلسل ہے، جس نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔

