(حسام الدین)
پشاور میں رواں سال بچوں کو قتل ،اقدام قتل، اغوا، چوری اور بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کے 144 واقعات ہوچکے ہیں۔
پولیس دستاویزات کے مطابق پشاور میں رواں سال اب تک بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کے 17 کیسز درج ہوئے بچوں کیساتھ جنسی زیادتی میں 44 ملزمان نامزد ہوچکے ہیں۔
پشاور میں اب تک 19 بچے قتل 42 زخمی ہوچکے ہیں قتل کے درج 15 کیسز میں 55 نامزد ملزمان میں تاحال گرفتاریاں نہیں ہوئی ہیں ۔
بچوں کےاقدام قتل کے 40 مقدمات درج ہوئے جن میں 63 ملزمان نامزد ہو چکے ہیں۔پشاورمیں 17 بچے اغوا ہوئے جن میں 36 ملزمان نامزد ہو چکے ہیں۔
دستاویز کے مطابق پشاورشہر میں بچے چوری کرنے کے 6 کیسز درج ہوئے، جن میں 9 ملزمان نامزد 7ہو چکے ہیں ۔گزشتہ سال 29 بچے قتل ہوئے،جن میں 100 ملزمان نامزد ہو چکے ہیں۔
پشاورمیں گزشتہ سال 27 بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کے کیسزرپورٹ ہوئےتھے جبکہ گزشتہ سال 20 بچے اغواء، 17چوری ہوچکے تھے۔
یونیسف رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 10 سے 20 فیصد بچوں کیساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے۔ جس کیلئے ملک میں موجودہ قانون کے مطابق عمر بھر کی سزا یا کم ازکم دس سال کی سزا کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

