اس زمانے میں ایسے خدوخال بھی خوبصورتی کی علامت سمجھے جاتے تھے جنہیں آج مختلف نظر سے دیکھا جاتا ہے، جیسےگھنے اور جڑے ہوئے ابرو,ہلکی سی مونچھ کا ہونا۔لیکن اُس دور میں یہ کسی کمی یا خامی کے طور پر نہیں دیکھے جاتے تھے، بلکہ وقار، اعتماد اور اعلیٰ سماجی حیثیت کی علامت سمجھے جاتے تھے۔
اس دور کے فن پارے، شاعری اور شاہی پورٹریٹس میں انہی خدوخال کو خوبصورتی کا معیار بنایا گیا تھا۔ یعنی یہ خصوصیات چھپانے کے بجائے فخر کے ساتھ نمایاں کی جاتی تھیں۔
فاطمے خانم کی مثال یہ واضح کرتی ہے کہ خوبصورتی کوئی جامد تصور نہیں۔ یہ وقت، ثقافت اور معاشرتی سوچ کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔جو چیز آج غیر معمولی سمجھی جاتی ہے، ماضی میں وہی مثالی حسن کا معیار ہوا کرتی تھی۔
یہ تاریخ ہمیں ایک اہم سوال کی طرف لے جاتی ہےآخر خوبصورتی کا معیار طے کون کرتا ہے اور یہ وقت کے ساتھ کیوں بدل جاتا ہے؟شاید جواب یہی ہے کہ حسن ہمیشہ دیکھنے والے کی نظر اور اس کے دور کی سوچ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔