کارڈ سے بل ادا کرنیوالے ہوجائیں ہوشیار ، ریسٹورنٹس میں کھانا مہنگا پڑسکتا ہے

کارڈ سے بل ادا کرنیوالے ہوجائیں ہوشیار ، ریسٹورنٹس میں کھانا مہنگا پڑسکتا ہے

پنجاب میں ریسٹورنٹس میں کھانے کے شوقین افراد کے لیے بری خبر آگئی ہے ، ریسٹورنٹس میں کھانا اب آسان نہیں ہوگا ۔ 

صوبائی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026 کے بجٹ میں ڈیجیٹل ادائیگیوں پر عائد سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز پیش کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ریسٹورنٹس کے بلوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

فنانس بل کے مطابق ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ، موبائل والٹس اور کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کرنے والے صارفین کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

فی الحال ڈیجیٹل ادائیگیوں پر 5 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہے، تاہم مجوزہ تبدیلی کی منظوری کے بعد صارفین کو ریسٹورنٹس میں کھانے پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ مجوزہ اضافہ صرف ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ہوگا، جبکہ نقد ادائیگی اور دیگر روایتی طریقوں سے کی جانے والی ادائیگیوں پر 16 فیصد سیلز ٹیکس بدستور برقرار رہے گا،  اس طرح کیش اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے درمیان ٹیکس کی شرح کا فرق برقرار رہے گا، اگرچہ یہ فرق پہلے کے مقابلے میں کم ہو جائے گا۔

صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد ریونیو میں اضافہ کرنا اور ریسٹورنٹ سیکٹر میں ہونے والی کاروباری سرگرمیوں کو مزید دستاویزی شکل دینا ہے۔ حکام کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ٹیکس میں اضافے کے باوجود یہ شرح نقد ادائیگیوں پر لاگو ٹیکس سے کم رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں :کاروباری طبقے کیلئے خوشخبری ، حکومت کا بڑے ریلیف کا اعلان

اگر پنجاب اسمبلی اس تجویز کی منظوری دے دیتی ہے تو صوبے بھر میں ریسٹورنٹس کے بلوں میں اضافہ متوقع ہے۔ اس کا براہِ راست اثر ان صارفین پر پڑ سکتا ہے جو روزمرہ لین دین کے لیے ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ یا موبائل والٹس کو ترجیح دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مجوزہ ٹیکس تبدیلی ایک طرف حکومتی آمدن میں اضافے کا ذریعہ بن سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب ڈیجیٹل ادائیگی استعمال کرنے والے صارفین کے اخراجات میں بھی اضافہ کرے گی۔

اب تمام نظریں پنجاب اسمبلی پر ہیں جہاں اس تجویز کی منظوری یا رد کا فیصلہ کیا جائے گا، جو لاکھوں صارفین اور ریسٹورنٹ انڈسٹری کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

editor

Related Articles