سونا کیوں سستا ہو رہا ہے، وجہ سامنے آگئی

سونا کیوں سستا ہو رہا ہے، وجہ سامنے آگئی

عالمی مالیاتی تاریخ کا یہ مسلمہ اصول رہا ہے کہ جب بھی دنیا میں جنگیں، جیو پولیٹیکل تنازعات یا سفارتی بحران جنم لیتے ہیں، سرمایہ کار اپنے سرمائے کو محفوظ رکھنے کے لیے دیگر اثاثے بیچ کر سونے کا رخ کرتے ہیں، جس سے اس کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔

تاہم، امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ شدید جنگی تنازع کے دوران عالمی کموڈٹی مارکیٹ نے ایک بالکل الٹ اور حیران کن رخ اختیار کر لیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باوجود، عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں بڑھنے کے بجائے مسلسل شدید دباؤ کا شکار ہیں، جس نے معاشی ماہرین کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔

جنگ کے آغاز کے بعد سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی

بین الاقوامی معاشی جریدے ’الجزیرہ‘ میں شائع ہونے والی ایک جامع تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف باقاعدہ عسکری کارروائیوں اور جنگ کے آغاز کے بعد سے سونے کی قیمت مسلسل گراوٹ کی زد میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سونے کی ریکارڈ قیمتیں، تاریخی اور پرانی گھڑیاں بھٹیوں کی نذر ہونے لگیں

اعدادوشمار کے مطابق رواں سال 28 جنوری کو عالمی منڈی میں سونا 5,303 ڈالر فی اونس کی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں اس کی قدر میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے اور یہ تقریباً 4,235 ڈالر فی اونس تک گر چکا ہے۔

جنگ کے ماحول میں سونے کی قیمت میں ایک ہزار ڈالر سے زائد کی یہ بڑی گراوٹ مالیاتی دنیا میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

آبنائے ہرمز کا بحران اور مہنگائی کا نیا طوفان

مالیاتی ماہرین کے مطابق اس انوکھے رجحان کی سب سے بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ اس بحران کے باعث عالمی سطح پر خام تیل اور توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی، جس نے تیل کی قیمتوں کو آگ لگا دی اور پوری دنیا میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا۔

امریکا میں مہنگائی کی شرح کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کی وجہ سے فیڈرل ریزرو اور دیگر عالمی مرکزی بینکوں کے لیے شرحِ سود میں کمی کے تمام امکانات ختم ہو گئے۔

بلند شرحِ سود نے سرمایہ کاروں کا رخ بدل دیا

اب سرمایہ کاروں کو یقین ہو چکا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینک نہ صرف شرحِ سود کو طویل عرصے تک بلند رکھیں گے بلکہ اس میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

چونکہ سونا ایک ایسا اثاثہ ہے جو ماہانہ یا سالانہ بنیادوں پر کوئی سود یا باقاعدہ ڈیویڈنڈ فراہم نہیں کرتا، اس لیے بلند شرحِ سود کے دور میں سرمایہ کار سونے کو چھوڑ کر امریکی ڈالر اور بانڈز جیسے منافع بخش اثاثوں کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے ڈالر مضبوط اور سونا مسلسل سستا ہو رہا ہے۔

محفوظ پناہ گاہ بھی اس بار سرمایہ کاروں کو نہ بچا سکی

معاشی اصطلاح میں سونے کو ’محفوظ پناہ گاہ‘ اور ’کاغذی کرنسی کا متبادل‘ سمجھا جاتا ہے۔ جب بھی دنیا میں کوئی بڑا بحران آتا ہے، سونا عموماً بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی کمی،10 گرام سونا چار لاکھ سے بھی نیچے آگیا

لیکن اس بار ایران تنازع نے ایک منفرد معاشی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ ایران اور آبنائے ہرمز کا جغرافیائی مقام عالمی تیل کی سپلائی کے لیے ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔

تیل مہنگا ہوا، مہنگائی بڑھی اور سونا دباؤ میں آ گیا

جب اس شہ رگ پر جنگ کے بادل چھائے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے ’کاسٹ پش انفلیشن‘ پیدا ہوئی۔ امریکا، جو عالمی معیشت کا انجن ہے، وہاں مہنگائی بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ امریکی مرکزی بینک اپنے نوٹ چھاپنے کی رفتار کم کرے گا اور شرحِ سود کو اوپر رکھے گا۔

فنانس کا ایک بنیادی قاعدہ ہے کہ جب سود کی شرح زیادہ ہو تو سونا اپنی چمک کھو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار سونا جنگ کے باوجود نیچے جا رہا ہے کیونکہ اس بار جنگ خود مہنگائی اور بلند شرحِ سود کا سبب بن رہی ہے۔

میکرو اکنامکس کا جیو پولیٹکس پر غلبہ

یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ موجودہ دور میں مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیاں اور شرحِ سود کا حجم کسی بھی جنگی خوف یا جیو پولیٹیکل تنازع کے مقابلے میں مارکیٹ پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

سرمایہ کار اب صرف بندوقوں کی گولیوں سے نہیں ڈر رہے بلکہ وہ مرکزی بینکوں کی ’سود کی گولیوں‘ کو زیادہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ 5,303 ڈالر سے 4,235 ڈالر پر آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ سے اربوں ڈالر کا سرمایہ نکل کر امریکی بانڈز میں منتقل ہو چکا ہے۔

Related Articles