وفاقی بجٹ 2026-27 ، حجم 18 ہزار 771 ارب روپے مقرر،ملازمین کی تنخواہوں ، پنشن میں اضافہ،قومی دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص

وفاقی بجٹ 2026-27 ، حجم 18 ہزار 771 ارب روپے مقرر،ملازمین کی تنخواہوں ، پنشن میں اضافہ،قومی دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے ملکی معیشت، دفاع، ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری ملازمین کے لیے متعدد اہم اعلانات کیے۔

وزیر خزانہ کا خطاب

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت کا مقصد معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا ہے، انہوں نے قومی دفاع کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے خاطر خواہ وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران ملکی دفاع اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے اہم نکات بیان کرتے ہوئے کہا کہ “بنیان مرصوص” کی کامیابی قومی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بھارت کو مؤثر جواب دیا گیا، جس کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید پذیرائی حاصل ہوئی۔

وزیر خزانہ کے مطابق آج دنیا کے مختلف ممالک پاکستان کی عسکری مہارت اور دفاعی ٹیکنالوجی کو تسلیم کر رہے ہیں، جبکہ متعدد ممالک پاکستانی لڑاکا طیاروں کو اپنی فضائی افواج کا حصہ بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہوں نے اپنی تقریر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔

بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے حکومت کی معاشی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے، بڑے صنعتی شعبے کی شرح نمو 6.1 فیصد اور خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران شرح سود میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔

اسی طرح بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں اور رواں مالی سال کے اختتام تک ان کا حجم 41 ارب ڈالر سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔

بجٹ کے اہم نکات

وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم: 18 ہزار 771 ارب روپے

ایف بی آر محصولات کا ہدف: 15 ہزار 264 ارب روپے

وفاقی غیر ٹیکس آمدن کا ہدف: 5 ہزار 336 ارب روپے

وفاقی حکومت کی خالص آمدن: 11 ہزار 751 ارب روپے

مالیاتی خسارہ کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 4 فیصد تک لانے کا ہدف

دفاع اور انتظامی اخراجات

بجٹ دستاویزات کے مطابق قومی دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1071 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے 430 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

قرضوں اور پنشن پر اخراجات

سود کی ادائیگیوں کے لیے: 8 ہزار 54 ارب روپے

مجموعی پنشن اخراجات: 1169 ارب روپے

عسکری پنشن: 822 ارب روپے

سول پنشن: 272 ارب روپے

ترقیاتی پروگرام

وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1050 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک ہزار ارب روپے سے زائد رقم رکھی گئی ہے تاکہ بنیادی ڈھانچے، توانائی، تعلیم اور دیگر شعبوں میں ترقیاتی کام جاری رہ سکیں۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور کم از کم اجرت

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرکاری ملازمین کی مختلف تنظیمیں تنخواہوں اور الاؤنسز میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

تنخواہ دار طبقے کے لیے اہم ٹیکس ریلیف کا اعلان

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے تنخواہ دار طبقے کے لیے اہم ٹیکس ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف تنخواہ دار افراد کو درپیش معاشی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں، اسی لیے مختلف آمدنی طبقات کے لیے انکم ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

قومی دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں قومی دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کیے ہیں۔بجٹ دستاویزات کے مطابق یہ رقم ملک کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے اور موجودہ علاقائی و عالمی صورتحال کے تناظر میں دفاعی تیاریوں کو بہتر رکھنے کے لیے رکھی گئی ہے۔ حکومت نے دفاع کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے اس شعبے کے لیے خاطر خواہ وسائل مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے20 فیصد کرنے کی تجوی

وزیر خزانہ کے مطابق سالانہ بائیس لاکھ سے 32 لاکھ روپے تک آمدنی حاصل کرنے والے تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے20 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد متوسط آمدنی والے ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا ہے۔

اسی طرح 32 لاکھ سے41 لاکھ روپے سالانہ آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح تیس فیصد سے کم کر کے پچیس فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے اس طبقے کے ملازمین کی قابلِ استعمال آمدنی میں اضافہ متوقع ہے۔

بجٹ تجاویز کے مطابق41 لاکھ سے چھپن لاکھ روپے سالانہ آمدنی رکھنے والے تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے29 فیصد مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

مزید برآں 56 لاکھ سے70 لاکھ روپے سالانہ آمدنی حاصل کرنے والوں کے لیے بھی ریلیف تجویز کیا گیا ہے۔ اس طبقے کی ٹیکس شرح35 فیصد سے کم کر کے بتیس فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

مجوزہ ٹیکس شرحوں کا خلاصہ

سالانہ آمدنی موجودہ شرح مجوزہ شرح
22 تا 32 لاکھ روپے 23 فیصد 20 فیصد
32 تا 41 لاکھ روپے 30 فیصد 25 فیصد
41 تا 56 لاکھ روپے 35 فیصد 29 فیصد
56 تا 70 لاکھ روپے 35 فیصد 32 فیصد

حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم ہوگا اور مہنگائی کے اثرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ تاہم ان تجاویز کو حتمی شکل قومی اسمبلی سے بجٹ کی منظوری کے بعد ملے گی۔

آئندہ مالی سال 2026-27 میں وفاقی بجٹ خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے صوبوں کی جانب سے ایک ہزار 794 ارب روپے کا سرپلس حاصل کیا جائے گا۔ اس مالی معاونت کے بعد وفاقی حکومت کا مجموعی بجٹ خسارہ کم ہو کر 5 ہزار 226 ارب روپے تک محدود رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے آئندہ مالی سال میں وفاقی بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے 3.6 فیصد کے برابر ہوگا، جو مالی نظم و ضبط کے حکومتی ہدف کی عکاسی کرتا ہے۔

پرائمری بیلنس میں سرپلس کا ہدف

 آئندہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کو 2 ہزار 828 ارب روپے کا پرائمری بیلنس سرپلس حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یہ وہ مالی توازن ہوتا ہے جس میں قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کو شامل نہیں کیا جاتا۔

حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کے مطابق مجموعی قومی پیداوار کے 2 فیصد کے مساوی پرائمری سرپلس کا ہدف مقرر کیا ہے، جسے ملکی مالی استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

مجموعی قومی پیداوار کا تخمینہ

مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کا تخمینہ ایک لاکھ 43 ہزار 604 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں اضافے، محصولات کی بہتر وصولی اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے اقتصادی نمو کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔

بجٹ میں فائلرز کے لیے جائیداد پر ٹیکس میں  کمی کی تجویز

قومی اسمبلی میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے جائیداد کی خرید و فروخت کرنے والے فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی کی تجویز دی ہے۔

بجٹ تقریر کے مطابق فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

  اس اقدام کا مقصد جائیداد کے شعبے میں لین دین کو آسان بنانا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ افراد کو مزید سہولت فراہم کرنا ہے۔

ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے، تاہم اس کے اثرات سرکاری محصولات اور ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کی مجموعی .

رفتار پر بجٹ کی منظوری کے بعد واضح ہوں گے۔

 توانائی، پانی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بڑے اعلانات

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے توانائی، آبی وسائل، شہری ترقی اور صحت کے مختلف منصوبوں کے لیے اہم مالی   اعلان کیا ہے۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور معیشت میں پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔

 بجلی اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے

بجلی کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 116.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں[ اس رقم کے تحت قابلِ تجدید توانائی اور دیگر منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے: 10.2 ارب اور 3 ارب روپے

واپڈا کے شمسی اور ہوا سے بجلی کے 9 منصوبے: 50.2 ارب روپے

آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں 8 ہائیڈل منصوبے: 13.1 ارب روپے

پہلے سے جاری واپڈا اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری: 158 ارب روپے سے زائد

حکومتی مؤقف کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا اور بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔

 آبی وسائل اور بڑے ڈیم منصوبے

پانی کے منصوبوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 103.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

دیامر بھاشا ڈیم: 14 ارب روپے

مہمند ڈیم: 15 ارب روپے

داسو ہائیڈرو پاور منصوبہ: 22 ارب روپے

کراچی کے بڑے پانی کے منصوبے (کے-4): 10 ارب روپے

یہ منصوبے ملک میں پانی کی قلت پر قابو پانے اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

 شہری ترقی، صنعت اور روزگار

بجٹ میں شہری ترقی اور معیشت کے دیگر شعبوں کے لیے بھی اہم فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

شہری ترقی اور ہاؤسنگ: 54.6 ارب روپے

صنعتی ترقی اور برآمدی مسابقت: 6.6 ارب روپے

وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ شہری مراکز ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں، جبکہ یہ قومی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتے ہیں۔

 صحت اور سماجی شعبہ

صحت کے منصوبوں کے لیے 25.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ بنیادی طبی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے اور عوامی صحت کے نظام کو مضبوط کیا جائے۔

تعلیم کے شعبے کے لیے بڑا فیصلہ 

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تعلیم، نوجوانوں کی مہارتوں، انتظامی اصلاحات اور مختلف علاقوں کی ترقی کے لیے اہم مالی رقوم مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ دانش اسکولز نیٹ ورک کے لیے تقریباً 22 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں تاکہ ملک بھر میں معیاری تعلیمی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

وزیرِ اعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام

اسی طرح وزیرِ اعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نیوٹیک کے لیے 7.9 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔

بجٹ میں سول سروسز، انصاف، پولیس اور ڈیجیٹل گورننس میں اصلاحات کے لیے 13 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ حکومتی نظام کو زیادہ مؤثر اور جدید بنایا جا سکے۔

آزاد کشمیر کے لیے 45 ارب روپے

علاقائی ترقی کے حوالے سے آزاد کشمیر کے لیے 45 ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے 44 ارب روپے اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 56 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیرِ اعظم خصوصی پیکج کے تحت آزاد کشمیر کو 5 ارب اور گلگت بلتستان کو 4 ارب روپے اضافی دیے جائیں گے۔

حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد تعلیمی معیار بہتر بنانا، نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانا، ادارہ جاتی اصلاحات کو فروغ دینا اور ملک کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی فرق کو کم کرنا ہے۔

آن لائن خریداری پر ٹیکس میں کمی

حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بیرون ملک سے آن لائن خریداری پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز دی ہے۔ اس کے مطابق بیرونی ممالک سے آن لائن شاپنگ پر موجودہ 5 فیصد ٹیکس کو کم کر کے صفر فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے صارفین کو بین الاقوامی پلیٹ فارمز سے خریداری میں مزید سہولت ملنے کی توقع ہے۔

سولر صارفین کے لیے بڑی خوشخبری 

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کو شمسی توانائی کے شعبے اور صارفین کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ بجٹ سے قبل اس شعبے پر ٹیکس بڑھنے کے خدشات پائے جا رہے تھے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد مہنگی بجلی کے بوجھ سے متاثرہ عوام کو سہولت فراہم کرنا اور ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع کو بڑھا کر نہ صرف بجلی کے اخراجات میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار بھی کم ہوگا۔

قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس: شور شرابہ سیاسی کشیدگی

قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس تاخیر سے شروع ہوا، تاہم آغاز کے ساتھ ہی ایوان میں شدید شور شرابہ اور اپوزیشن کے احتجاج نے ماحول کو کشیدہ بنا دیا۔ اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈیسک کے سامنے کھڑے ہو کر نعرے بازی کرتے رہے، جس کے باعث وزیر خزانہ کی تقریر سننا مشکل ہو گیا۔ حکومتی اراکین نے بھی غیر معمولی خاموشی اختیار کی، جبکہ بعض نے ہیڈ فون استعمال کیے۔

اجلاس میں حکومتی اتحادی جماعتوں خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی کم تعداد نے بھی توجہ حاصل کی، جبکہ بعض اہم سیاسی رہنما بھی ایوان میں موجود نہیں تھے۔ عمومی طور پر بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت ہوتی ہے، مگر اس بار متعدد کرسیاں خالی نظر آئیں، جس سے سیاسی بے چینی اور عدم دلچسپی کا تاثر بھی ملا۔

بجٹ تقریر ختم ہونے سے پہلے ہی اپوزیشن کا واک آئوٹ 

بجٹ اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے ایوان کے ماحول کو کشیدہ بنائے رکھا اور شدید نعرے بازی کرتے رہے ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی بھی دیکھنے میں آئی تاہم وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر ختم ہونے سے پہلے ہی اپوزیشن کے ارکان نے واک آئوٹ کردیا ۔

editor

Related Articles