حکومت نے پیٹرولیم کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت پیٹرولیم سیکٹر سے متعلق امور پر کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں تیل و گیس کے نئے ذخائر تلاش کرنے کیلئے مالیاتی نظام کو بہتر بنانے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں پیٹرولیم، خزانہ اور توانائی کے وزراء کے علاوہ سرکاری اور نجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پیٹرولیم پالیسی 2012 ء میں حالیہ ترامیم پر عمل درآمد اور گردشی قرضوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے فریم ورک تیار کیا جائے۔ داخلہ ڈویژن کو سیکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے ون ونڈو سہولت تیار کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: روڈ پرنس موٹر سائیکل تین سال کی اقساط پر کتنے کی ملے گی ؟ خریداروں کیلئے اہم خبر
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے توانائی کے تحفظ اور معاشی ترقی کے لئے پٹرولیم سیکٹر کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں کی سہولت کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کیا جس سے مزید سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد ملے گی۔
مقامی اور غیر ملکی تیل و گیس کمپنیوں کے سربراہان نے بڑھتے ہوئے گردشی قرضوں کی وجہ سے اس شعبے کی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔ کمیٹی کے نجی شعبے کے اراکین نے بھی گیس کے شعبے کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا اور اس کے استحکام کو بہتر بنانے کے لئے اس شعبے کو نجی کمپنیوں کے لئے کھولنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سوزوکی کلٹس کے بعد ویگن آر کی قیمتیں سامنے آگئیں
تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد فورم نے پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ صنعت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ ماہانہ یا سہ ماہی بنیادوں پر گیس کی قیمتوں کو ایڈجسٹ کرنے کا طریقہ کار متعارف کرایا جاسکے۔ فورم نے پٹرولیم ڈویژن کو اوگرا آرڈیننس میں مناسب ترامیم تجویز کرنے کی بھی ہدایت کی۔سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے فورم نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تیل و گیس کمپنیوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے۔ داخلہ ڈویژن کو وفاقی اور صوبائی سطح پر ون ونڈو سہولت قائم کرنے کا بھی ٹاسک دیا گیا تھا تاکہ چیلنجنگ علاقوں میں آپریشنز کے لئے سیکیورٹی کو یقینی بنایا جاسکے۔

