امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر امریکا کے کنٹرول میں ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ سے کوئی بھی جہاز امریکی بحریہ کی منظوری کے بغیر داخل یا واپس نہیں ہو سکتا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیانات میں کہا کہ ایران اس وقت قیادت کے تعین اور اندرونی سیاسی صورتِ حال کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایران کے اندر سخت گیر عناصر اور اعتدال پسند گروہ کے درمیان اختلافات جاری ہیں، جہاں سخت گیر گروہ جنگی محاذ پر نقصان اٹھا رہا ہے جبکہ اعتدال پسند عناصر کو کسی حد تک پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب کوئی بھی جہاز امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر اس راستے سے گزر نہیں سکتا۔ ان کے مطابق یہ آبی گزرگاہ اس وقت تک مکمل طور پر بند رہے گی جب تک ایران کسی معاہدے تک نہیں پہنچتا۔ انہوں نے اسے ایک عارضی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ایران کو مذاکرات اور معاہدے کی طرف لانا ہے۔
ایک اور بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ایران کی کسی بھی کشتی کو فوری طور پر نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فورسز اس وقت آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے عمل میں مصروف ہیں اور اس سرگرمی کو مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق خطے میں موجود ایرانی جہازوں اور کشتیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اب تک 159 ایرانی جہاز سمندر برد کیے جا چکے ہیں۔
امریکی صدر اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اس سے قبل بھی یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ امریکی افواج نے ایران کی بحری قوت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس کے بیشتر بحری جہاز تباہ ہو چکے ہیں۔ تاہم ایران اور خود امریکی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے پاس سمندری نگرانی اور دفاع کے لیے گن بوٹس اور دیگر بحری اثاثے موجود ہیں۔