امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جوہری حملے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
ان کا یہ موقف اس بیان کے چند ہفتے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کی تہذیب کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں جب صحافیوں نے صدرڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں، میں ان کو استعمال نہیں کروں گا، میں جوہری ہتھیار کیوں استعمال کروں گا جب ہم ان کو اس کے بغیر ہی روایتی طریقے سے تباہ کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کسی کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے 7 اپریل کو ایران کو نسل کشی کی دھمکی دیتے کہا تھا کہ ’آج رات ایک پوری تہذیب دم توڑ دے گی جسے کبھی واپس نہیں لایا جا سکے گا ، تاہم چند ہی گھنٹے کے اندر جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی، جس کا دو ہفتے کا دورانیہ گزر جانے کے بعد اس میں توسیع کی گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ وہ ایک ایسا ایران دیکھنے کے خواہاں ہیں جو ’جوہری ہتھیاروں کے بغیر‘ ہو۔ جو ہمارے کسی شہر یا پورے مشرق وسطیٰ کو اڑانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی تردید کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے نگراں ادارے کا کہ جنگ سے قبل ایٹم بم کے بننے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے جنگ میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے، دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے قریب دو جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی کو ایٹم بموں کے ذریعے ختم کیا گیا جس میں تقریباً دو لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیل بھی بڑے پیمانے پر جوہری ہتھیار رکھنے کے لیے جانا جاتا ہے تاہم اس کے حکام کی جانب سے ابھی تک اس کو عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا ، ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ واضح بیان امریکہ کے اس دیرینہ نظریے سے مطابقت نہیں رکھتا جس کے تحت وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حق رکھتا ہے۔
سابق صدر باراک اوباما نے جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے مقصد پر زور دیا تھا تاہم ان کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ جب تک یہ موجود ہیں یہ امریکہ کے لیے ڈیٹیرنٹ کا کام کریں گے، اس سے قبل امریکہ ایسے مطالبات کو مسترد کر چکا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ جنگ میں کبھی پہلے جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔