اسلام آباد ہائی کورٹ نے اہم نوعیت کے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس میں تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ لیز منسوخی کے اقدام کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے اسے برقرار رکھا ہے، جس سے کیس میں کئی عرصے سے جاری قانونی کشمکش کا اختتام ہو گیا۔
فیصلہ چیف جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کی جانب سے تحریر کیا گیا، جس میں واضح کیا گیا کہ اتھارٹی کی کارروائی اعلیٰ عدالت کے احکامات کے عین مطابق تھی عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ متعلقہ کمپنی عدالت عظمیٰ کی جانب سے عائد کردہ مالیاتی شرائط پوری کرنے میں ناکام رہی، جس کے باعث لیز کی منسوخی ایک ناگزیر قانونی قدم بن گئی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق کمپنی کو متعدد مواقع فراہم کیے گئے تاکہ وہ واجب الادا رقم جمع کرا سکے، تاہم وہ مقررہ مدت کے اندر ادائیگی مکمل نہ کر سکی۔ خاص طور پر دو ہزار بائیس کی قسط، جو اربوں روپے پر مشتمل تھی، جمع نہ کرائے جانے کو عدالت نے سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے دیا گیا آخری موقع بھی مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے پہلے نوٹس جاری کیا اور بعد ازاں مقررہ طریقہ کار کے مطابق لیز منسوخ کی۔ اس ضمن میں درخواست گزار کی جانب سے اٹھائے گئے تکنیکی اعتراضات کو بھی غیر مؤثر قرار دیا گیا۔
مزید برآں، عدالت نے سرمایہ کاروں کی درخواستوں کو بھی نمٹاتے ہوئے انہیں ہدایت دی کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے متعلقہ قانونی فورمز سے رجوع کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپنی کی جانب سے پیش کردہ جزوی ادائیگی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے درخواست کو مکمل طور پر خارج کر دیا گیا۔