گورنرخیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہم نے بتایا تھاکہ جب تک ہم نہیں چاہے گئے اس وقت تک پی ٹی آئی جلسہ تو دور جلسی کا انعقاد بھی نہیں کرسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ بتایا جائے صبح ساڑھے 7 بجے کس جیل میں قیدی سے ملاقات کرائی جاتی ہے؟
خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ اعتماد کا ووٹ لے کیونکہ اپنے ہی پارٹی کے لوگوں نے اعلان بغاوت کردیا ہے۔پی ٹی آئی میں جو جو کرپشن کی نشاہدہی کرتا ہے اسے فارغ کیا جاتا ہے۔یہ کہنا تھا گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا آزاد ڈیجیٹل کے نمائندے سید زیشان سے۔گورنر نے بتایا کہ جب تک ہم نہیں چاہے گئے اس وقت تک پی ٹی آئی جلسہ تو دور جلسی کا انعقاد بھی نہیں کرسکتی ہے۔فیصل کریم نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو تو پناہ دی جاتی ہے لیکن جب سیاح آتے ہے تو انہیں روک دیا جاتا ہے ۔جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں ہے۔فیصل کریم کا اپنے ضلع میں جاری بدامنی کے واقعات سے متعلق بتانا تھا کہ ڈی آئی خان نو گو علاقہ بنتا جارہا ہے کیونکہ وہاں سیکورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں کو مسلسل شہید کیا جارہا ہے اور اس سے حکومت مکمل بے خبر ہے۔ان کے مطابق ڈی آئی خان میں ہر وقت ٹولے گھوم رہے ہے جو سرکاری ملازمین کو گرفتار کر رہے ہے۔ پشاور ڈی آئی خان موٹر وے پر سرے عام تلاشی لی جارہی ہے اور حکومت کی رٹ کئی دیکھائی نہیں دے رہی ہے۔خیبرپختونخوا میں حکومت کے اپنے ہی رہنماؤں کے کرپشن الزامات پر گورنر کا کہنا تھا کہ چوروں کی چوری پکڑنے کے لیے ڈاکوؤں کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا کی تاریخ میں بدترین کرپشن کا سلسلہ جاری ہے کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کے تبادلوں کے ریٹ مقرر ہے۔صورتحال یہاں تک آگئی ہے کہ کلاس فور بھرتی کرنے کے لیے بھی بھاری رشوت لی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا، یونیورسٹی اراضی بیچنے پر حکومت کی الجھن بڑھ گئی
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی میں جو شخص کرپشن کی نشاندہی کرتا ہے انہیں کابینہ سے فارغ کیا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے ملتوی ہونے والے جلسے کے حوالے سے گورنر کا کہنا تھا صبح ساڑھے 7 بجے کس جیل میں قیدی کے ساتھ ملاقات کرائی جاتی ہے۔یہ جلسہ کیوں اور کس وجہ سے ملتوی ہوا ہے عمران خان کی بہن نے عوام کو سب بتا دیا ہے۔گورنر کے مطابق جلسے کا انعقاد نہ کرنے پر وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دینے کا دعویٰ کیا تھا اب وزیر اعلیٰ سامنے آئے اور استعفیٰ دے۔ ان کے مطابق 8 ستمبر کو پی ٹی آئی کا جلسہ منعقد ہونے مشکل ہے کیونکہ ہماری اجازت کے بغیر کسی کا باپ بھی پنچاب اور سندھ میں جلسہ نہیں کرسکتا ہے۔8 ستمبر کو پی ٹی آئی والے ساڑھے 6 بجے بانی سے ملے گئے اور جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان کرینگے۔فیصل کریم نے وزیر اعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ناچنے والے گھوڑے کبھی دوڑتے نہیں ہیں، انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے صبح ساڑھے 7 بجے کس جیل میں قیدی سے ملاقات کرائی جاتی ہے؟

