(عارف خان)
مردان میں جامعات کیلئے خریدی گئی 4ہزار800 کنال اراضی کے 30 ارب سے زائد بقایاجات سے متعلق خیبر پختونخوا حکومت الجھن کا شکار ہو گئی۔
اراضی بقایاجات کی ادائیگی کے لئے وزراء اور انتظامی سیکرٹریز پر بنائی گئی کمیٹی نے اراضی میں سے کچھ زمین بقایاجات کی ادائیگی کے لئے فروخت کرنے کا معاملہ ایک طرف سنڈیکٹ کو ارسال کر دیا تو دوسری جانب ایک اور کمیٹی قائم کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اراضی کی فروخت کے لئے طلب کئے گئے سنڈیکٹ اجلاس میں حکومت سے طریقہ کار واضع کرنے کی درخواست کر دی ہے اور ساتھ میں یہ بھی پوچھا ہے کہ کس قانون اور طریقہ کار کے تحت زمین کو الگ اور فروخت کیا جائے گا۔ جامعات کی زمین کی فروخت کے لئے بنائی گئے وزراء پر مشتمل کمیٹی نے مذکورہ معاملہ کو سنڈیکٹ کمیٹی کے سامنے رکھنے کی ہدایت کی تھی جس پر گزشتہ دونوں زرعی یونیورسٹی اور انجینئرنگ یونیورسٹی نے سنڈیکٹ اجلاس طلب کیا تھا۔
سنڈیکٹ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ قانون، اعلیٰ تعلیم، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور سینئر ممبر بورڈ اف ریونیو سے متعلقہ معاملہ پررائے لی جائے گی،سنڈیکٹ کی جانب سے حکومت کے سامنے چند سوالات رکھے گئے ہیں جس میں حکومت سے پوچھاگیا ہے کہ زمین کو کس طریقہ کار کے تحت الگ کیا جائے گا اسی طرح زمین کو کس طریقہ کار کے تحت فروخت کیا جائے گا، زمین کی فروخت کا طریقہ کار بھی بتایا جائے،جبکہ اور کیپرا رولز، لینڈ ایکوزیشن ایکٹ اور یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق قانونی راستہ بتایا جائے کہ کس طرح مذکورہ قانون اور کیپرا رولز کے تحت اراضی فروخت کی جائے گی۔
زمین کے فروخت کے معاملے پر حکومت کے مردان سے منتخب ممبران صوبائی اسمبلی بھی کھل کر اس فیصلے کی مخالفت میں سامنے آگئے ہیں، جس کے بعد حکومت نے بھی جامعات کی اراضی کی فروخت سے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی شروع کر دی ہے، اور اس معاملے پر وزراء پر مشتمل کمیٹی نے کمشنر مردان ڈویژن، متعلقہ جامعات کے وائس چانسلرز اور مقامی ایم پی ایز پر مشتمل ایک اور کمیٹی بناڈالی ہے، جس میں اراضی سے متعلق دوسرا متبادل راستہ نکالنے کے لئے تجاویز پیش کی جائیں گے تاہم مذکورہ کمیٹی کا بھی ابھی تک ایک اجلاس منعقد نہیں ہوا ہے۔
واضح رہے حکومت کی جانب سے سال 2008میں مردان میں جامعات کے لئے 4ہزار800کنال زمین خریدی گئی تھی،جس میں ولی خان یونیورسٹی کے لئے دو ہزار کنال، باچا خان میڈیکل کالج کے لئے ایک ہزار اور امیر محمد خان کیمپس زرعی یونیورسٹی کے لئے 18سو کنال زمین خریدی گئی تھی جبکہ زرعی یونیورسٹی کیمپس کی اراضی سے چار سو کنال انجینئرنگ یونیورسٹی مردان کیمپس کے لئے مختص کی گئی تھی زمین 28سو روپے فی مرلہ کے حساب سے خریدی گئی تھی جس پر اراضی مالکان کی جانب سے بعد میں عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا اور فی مرلہ 1لاکھ35ہزار روپے مقرر کیا گیا، تاہم حکومت کے ذمہ 30ارب سے زائد کے بقایاجات ہیں اور اراضی مالکان کو زمین کے عوض رقم ادا کرنی ہے جس کے لئے حکومت کی جانب سے کمیٹی قائم کی گئی اور کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ سات سو کنال زمین کو فروخت کر کے زمین کی بقایاجات ادا کئے جائیں، اب حکومتی کمیٹی بھی کش مکش کا شکار ہے، اس فیصلے کے خلاف نہ صرف حکومتی نمائندوں بلکہ اپوزیشن کی جانب سے بھی کھل کر مخالفت کی جارہی ہے۔

