پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول کی نمائندہ ٹیم نے دنیا کے معتبر ترین اور کٹھن ترین سالانہ بین الاقوامی فوجی مقابلےمیں غیر معمولی اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئی ہوئی 16 عالمی فوجی ٹیموں کو پیچھے چھوڑ کر پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
برطانوی دھرتی پر حاصل ہونے والی اس تاریخی کامیابی نے عالمی عسکری میدان میں پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت کا لوہا منوا دیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی طرف سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، برطانیہ کی مشہورِ زمانہ ‘رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ’ میں منعقدہ اس سالانہ فوجی مقابلے میں میجر حیدر گلزار کی قیادت میں 9 رکنی پاکستانی عسکری دستے نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا میں پاکستانی پرچم سربلند، پاک آرمی قابل فخر، کیڈٹ سردار ارسام عباس نے ’بہترین غیر ملکی کیڈٹ‘ کا اعزاز جیت لیا
پاکستانی ٹیم 5 جون کو برطانیہ پہنچی تھی، جہاں انہوں نے دنیا کی دیگر بہترین اکیڈمیوں کے کیڈٹس اور جنگی دستوں کے خلاف سخت ترین جسمانی، ذہنی اور تزویراتی مقابلوں میں حصہ لیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ میجر حیدر گلزار اور ان کے جری جوانوں نے مقابلے کے دوران اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں، کٹھن ترین فوجی تربیت اور غیر معمولی لگن کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف پہلی پوزیشن حاصل کی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا نام بھی روشن کیا۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سینڈہرسٹ کے میدانوں میں پاکستان کا پرچم سربلند کرنے والی اس شاندار کامیابی کو پاکستان آرمی کے اعلیٰ تربیتی معیار، سخت ترین فٹنس، نظم و ضبط اور عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
اس تاریخی فتح نے ایک بار پھر پاک فوج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عالمی عسکری مقابلوں میں اس کے نمایاں و منفرد مقام کو دنیا کے سامنے واضح طور پر اجاگر کر دیا ہے۔
برطانیہ کی ‘رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ’ دنیا کی قدیم ترین اور معتبر ترین عسکری درسگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں ہر سال دنیا بھر کی بہترین ملٹری اکیڈمیوں (جیسے امریکہ کی ویسٹ پوائنٹ، برطانیہ کی سینڈہرسٹ، اور دیگر نیٹو ممالک کی اکیڈمیاں) کے کیڈٹس کے درمیان پیشہ ورانہ مہارتوں کا مقابلہ منعقد کیا جاتا ہے۔
اس مقابلے میں کیڈٹس کے نیویگیشن، نشانہ بازی (مارکس مین شپ)، مڈل نائٹ پٹرولنگ، طبی امداد (فرسٹ ایڈ)، بقا کی جنگ (سروائیول اسکلز) اور انتہائی کٹھن رکاوٹوں کو عبور کرنے (ابسلاسٹیکل کورس) کا سخت امتحان لیا جاتا ہے، جہاں نیند کی کمی اور شدید جسمانی تھکن کے باوجود فیصلہ سازی کی صلاحیت کو پرکھا جاتا ہے۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کا سینڈہرسٹ کے ساتھ ایک دیرینہ اور تاریخی تعلق ہے۔ پاکستان کے متعدد نامور فوجی افسران نے سینڈہرسٹ سے اعزازی شمشیر اور دیگر اعلیٰ ترین اسناد حاصل کر رکھی ہیں۔
مزید پڑھیں:پاک آرمی نے چھٹی بار کیمبرین پیٹرول مشق میں گولڈ میڈل کا اعزاز حاصل کیا
پاک فوج کی تربیت کا خاصہ اس کا ‘جنگی ماحول سے ہم آہنگ’ ہونا ہے، کیونکہ پاکستانی افسران اور جوانوں کو مہم جوئی، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور مشکل ترین جغرافیائی خطوں (جیسے سیاچن اور وزیرستان) میں کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پی ایم اے کے کیڈٹس جب بھی بین الاقوامی مقابلوں (جیسے برطانیہ کا ‘کیمبرین پٹرول’ یا سینڈہرسٹ کا یہ مقابلہ) میں جاتے ہیں، تو ان کی جسمانی برداشت اور آپریشنل اسکلز دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس فوجوں پر بھی بھاری پڑ جاتی ہیں۔
تربیتی معیار کی عالمی توثیق
16 بین الاقوامی ٹیموں (جن میں زیادہ تر ترقی یافتہ اور جدید مغربی ممالک کی ٹیمیں شامل تھیں) کو ہرا کر پہلی پوزیشن حاصل کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ پی ایم اے کاکول کا تربیتی نصاب اور معیار آج بھی دنیا کے بہترین اداروں کے ہم پلہ یا ان سے بہتر ہے۔ یہ کامیابی مغربی ممالک کے اس پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب ہے جو پاکستانی عسکری اداروں کے معیار پر سوال اٹھاتے ہیں۔
قیادت اور ٹیم ورک کا بہترین نمونہ
میجر حیدر گلزار کی قیادت میں صرف 9 رکنی دستے نے یہ معرکہ سر کیا۔ فوجی مقابلوں میں انفرادی صلاحیت سے زیادہ ‘ٹیم ورک’ اور دباؤ کی صورتحال میں کپتان کی فیصلہ سازی اہم ہوتی ہے۔ 5 جون کو برطانیہ پہنچنے کے بعد انتہائی کم وقت میں وہاں کے موسم اور ماحول (ایکلیمیٹائزیشن) سے ہم آہنگ ہو کر فتوحات کے جھنڈے گاڑنا پاکستانی کمانڈرز کی بہترین ذہنی ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔
سافٹ سفارت کاری میں عسکری کامیابی کا کردار
ایسے وقت میں جب پاکستان کو مختلف محاذوں پر جیو پولیٹیکل چیلنجز کا سامنا ہے، برطانوی دھرتی پر سینڈہرسٹ جیسے معتبر ادارے میں پاکستانی پرچم کا لہرانا ملک کی سافٹ امیج کو زبردست فروغ دیتا ہے۔
یہ کامیابیاں بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ پاکستان آرمی نہ صرف دفاعِ وطن کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ عالمی امن اور پیشہ ورانہ مقابلوں میں بھی ایک ناگزیر قوت ہے۔
مستقبل کے اسٹریٹجک تعلقات پر اثرات
سینڈہرسٹ میں اس قسم کے شاندار مظاہرے سے پاک-برطانیہ عسکری تعلقات اور تربیتی تعاون میں مزید پختگی آئے گی۔ برطانوی اور دیگر عالمی مبصرین جو ان مقابلوں کی نگرانی کر رہے تھے، اب پاکستانی تربیتی ماڈل کو اپنے اداروں میں نافذ کرنے اور پاکستانی انسٹرکٹرز کی خدمات حاصل کرنے میں مزید دلچسپی لیں گے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔

