پاکستان آرمی کی جونیئر قیادت نے ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا لوہا منوا لیا ہے۔ آسٹریلین رائل ملٹری کالج (آرایم سی) ڈنٹرون، کینبرا میں منعقدہ پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دوران پاکستانی کیڈٹ سردار ارسام عباس ’پی ایم اے152 ‘ لانگ کورس) کو مجموعی طور پر ’بہترین غیر ملکی فوجی کیڈٹ‘ کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 05 مئی 2026 کو منعقد ہونے والی اس باوقار کمیشننگ پریڈ کا جائزہ آسٹریلوی چیف آف آرمی لیفٹیننٹ جنرل سائمن اسٹوارٹ نے لیا۔
اس موقع پر کینبرا میں پاکستانی ہائی کمشنر، آسٹریلین ڈیفنس فورس کے اعلیٰ افسران اور فارغ التحصیل ہونے والے کیڈٹس کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ سردار ارسام عباس کو یہ ایوارڈ تربیت کے تمام سخت مراحل، بشمول تعلیمی اور جسمانی شعبوں میں نمایاں ترین کارکردگی دکھانے پر دیا گیا۔
پاک آسٹریلیا فوجی تعاون کی تاریخ
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دفاعی تعلقات کی تاریخ انتہائی مضبوط ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق2013 سے اب تک پاکستان آرمی کے 7 افسران اسی معزز کالج میں بطور ’پلاٹون کمانڈر‘ خدمات انجام دے چکے ہیں۔
2009 سے اب تک 46 پاکستانی کیڈٹس اس ادارے سے فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔ یہ 14 واں موقع ہے کہ کسی پاکستانی کیڈٹ نے ’بہترین غیر ملکی کیڈٹ‘ کا ٹائٹل اپنے نام کیا ہے۔
لیفٹیننٹ ناصر حسین خالد شہید کی میراث
اس اعزاز کا ایک جذباتی اور تاریخی پہلو لیفٹیننٹ ناصر حسین خالد سلہریا شہید (تمغہِ بصالت) سے جڑا ہے، جنہوں نے 04 ستمبر 2020 کو شمالی وزیرستان میں جامِ شہادت نوش کیا۔
وہ بھی اسی ادارے سے ’بہترین غیر ملکی کیڈٹ‘ کا ایوارڈ حاصل کر چکے تھے اور ان کا نام آج بھی آر ایم سی کے پریڈ گراؤنڈ میں نصب یادگاری پتھر پر کندہ ہے، جو پاک فوج کی قربانیوں اور عالمی معیار کی تربیت کی علامت ہے۔
عالمی سطح پر پاک فوج کی ساکھ
سردارارسام عباس کی یہ کامیابی کئی حوالوں سے اہمیت کی حامل ہے، ایک غیر ملکی سرزمین پر، جہاں دنیا بھر سے بہترین کیڈٹس موجود ہوں، ٹاپ پوزیشن حاصل کرنا ثابت کرتا ہے کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کی بنیادیں اور جونیئر قیادت کی تیاری کا نظام عالمی درجے کا ہے۔
دفاعی ڈپلومیسی کے تناظر میں، آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ملک کے فوجی ادارے میں پاکستانی کیڈٹس کی مسلسل کامیابی دونوں ممالک کے مابین سٹریٹجک اعتماد کو بڑھاتی ہے۔
14 بار یہ ایوارڈ جیتنا کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک طے شدہ معیار ہے جو لیفٹیننٹ ناصر شہید جیسے بہادر افسران کی روایت کو آگے بڑھا رہا ہے۔