واپڈا زرائع کے مطابق ملک میں زیر زمین پانی سے محرومی کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور پنجاب میں 36.17 فیصد حصہ میں زیر زمین پانی ختم ہونے کے قریب ہے۔
تفصیلات کے مطابق واپڈا کی جانب سے حالیہ جاری رپورٹ میں ملک میں زیرِ زمین پانی کی سطع میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی ہے اس حوالے سے واپڈا کی جانب سے جاری رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب کا 22.84 حصہ زیر زمین پانی سے محروم ہو چکا ہے اور گزشتہ 6 سالوں میں زیر زمین پانی سے محرومی میں 5.66 فیصد اضافہ ہوا ہے اور سب سے زیادہ پنجاب میں 36.17 فیصد حصہ میں زیر زمین پانی ختم ہونے کے قریب ہے۔ واپڈا دستاویز کے مطابق پنجاب میں 1 سے 5 فٹ تک زیر زمین پانی 0.48 فیصد تک رہ گیا اور6 سالوں میں 1 سے 5 فٹ زیر زمین پانی میں 3.2 فیصد کمی ہوگئی ہے اورپنجاب میں 5 سے 10 فٹ تک زیر زمین پانی 6.40 فیصد تک رہ گیا ۔ واپڈا کے مطابق 6 سالوں میں 5 سے 10 فٹ زیر زمین پانی میں 10.94 فیصد کمی ہوئی ہے اور پنجاب میں 10 سے 20 فٹ زیر زمین پانی 34.07 فیصد تک رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں مون سون بارشیں: جانی و مالی نقصان کی تفصیلات سامنے آ گئیں
واپڈا سے جاری دستاویز کے مطابق گزشتہ 6 سالوں میں 10 سے 20 فٹ زیر زمین پانی میں 2.03 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور سندھ اور بلوچستان میں 0.03 فیصد حصہ زیر زمین پانی سے محروم ہو چکے ہیں۔ واپڈا زرائع کے مطابق دونوں صوبوں میں 0.39 فیصد حصہ زیر زمین پانی ختم ہونے کے قریب ہے اور سندھ اور بلوچستان میں 1 سے 5 فٹ زیر زمین پانی 1.23 فیصد رہ گیا ہے۔ اس طرح سے دونوں صوبوں میں 5 سے 10 فٹ زیر زمین پانی 65.54 فیصد رہ گیا ہے اورسندھ اور بلوچستان میں 10 سے 20 فٹ پانی 32.72 فیصد تک ہوگیا ہے، جبکہ خیبر پختونخواہ کا 32.96 فیصد حصہ زیر زمین پانی سے محروم ہوگیا اور کے پی کے میں 41.94 حصہ میں زیر زمین پانی ختم ہونے کے قریب ہے۔

