علی بابا ڈاٹ کام کا پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے بڑا اعلان

علی بابا ڈاٹ کام کا پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے بڑا اعلان

پاکستان کی بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) اور برآمدی صنعت کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے۔

ای کامرس کے شعبے میں دنیا کے سب سے بڑے بی ٹو بی پلیٹ فارم ’علی بابا ڈاٹ کام‘ نے پاکستانی ایکسپورٹرز اور چھوٹے و متوسط کاروباروں (ایس ایم ایز) کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اپنا جدید ترین نظام ’ایکیو ورک‘ متعارف کرانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

اس جدید نظام کے ذریعے پاکستانی برآمد کنندگان کو ایک ایسی خودکار ڈیجیٹل ورک فورس (ڈیجیٹل ملازمین) فراہم کی جائے گی جو کاروباری سرگرمیوں کے آغاز سے لے کر ان کے اختتام تک تمام مراحل کو انتہائی مؤثر اور پیشہ ورانہ انداز میں خودکار طریقے سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:معروف عالمی ای کامرس کمپنی علی بابا کی پاکستان میں دھماکہ خیز انٹری

اس نئی ٹیکنالوجی کی باقاعدہ تعارفی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے علی بابا ڈاٹ کام کے ہیڈ آف گلوبل سیلز پراڈکٹس اینڈ سروسز ’ایتھن وانگ‘ نے اے آئی ایکیو ورک کی خصوصیات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایکیو ورک عام روایتی سافٹ ویئرز یا ٹولز سے بالکل مختلف ایک فعال اور خود مختار ڈیجیٹل ورک فورس ہے۔ یہ نظام عالمی منڈی میں نئے کاروباری مواقع تلاش کرنے، روزمرہ کے دفتری و تجارتی امور چلانے اور ڈیٹا کی بنیاد پر بروقت تزویراتی فیصلے کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے۔

ایتھن وانگ نے تقریب کے شرکا کو بتایا کہ یہ محض ایک عام سافٹ ویئر نہیں ہے بلکہ چھوٹے اور متوسط کاروباروں (ایس ایم ایز) کے لیے ایک مکمل ’ایجنٹک بزنس ٹیم‘ کا درجہ رکھتا ہے۔

یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم مارکیٹ ریسرچ، بین الاقوامی خریداروں کے لیے تخلیقی اور پرکشش مواد کی تیاری، کسٹمر انگیجمنٹ (گاہکوں سے رابطہ اور بات چیت) اور آن لائن اسٹور کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ جیسے پیچیدہ امور خود سرانجام دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جوں جوں پاکستان کی برآمدی مارکیٹ ترقی اور تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے، عالمی سطح پر مسابقت برقرار رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی ای کامرس کمپنی ’علی بابا‘ کا پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان

ایکیو ورک ایک ایسے بروقت اور مؤثر حل کے طور پر سامنے آیا ہے جسے خاص طور پر پاکستانی ایکسپورٹرز کے اہم چیلنجز کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے وہ عالمی منڈی میں اپنی برآمدی رسائی کو کئی گنا بڑھا سکیں گے۔

پاکستان کی ای کامرس ایکسپورٹ اور علی بابا کا کردار

پاکستان کے چھوٹے اور متوسط درجے کے مینوفیکچررز (کپڑا، چمڑا، اسپورٹس کا سامان، اور سرجیکل آلات بنانے والے) طویل عرصے سے بین الاقوامی مارکیٹ تک براہِ راست رسائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

عالمی خریداروں (بائرز) کی زبان سمجھنا، ان کے سوالات کا 24 گھنٹے فوری جواب دینا اور بین الاقوامی معیار کے مطابق اپنی مصنوعات کی ڈیجیٹل مارکیٹنگ کرنا ان چھوٹے اداروں کے لیے مالی اور افرادی قوت کے لحاظ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔

علی بابا ڈاٹ کام گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان میں فعال ہے اور اس نے ہزاروں مقامی برآمد کنندگان کو چین، امریکہ اور یورپ کے خریداروں سے جوڑا ہے۔ تاہم، 2026 میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی لہر کے بعد، اب روایتی ای کامرس کی جگہ ’اے آئی ایجنٹس‘ (صلاحیت کار) لے رہے ہیں۔

علی بابا کی جانب سے پاکستان کو اس ٹیکنالوجی کے لیے اولین مارکیٹس میں منتخب کرنا ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی تاجر ڈیجیٹل سسٹمز کو اپنانے کے لیے تیار ہیں۔

’ایکیو ورک‘ سے برآمدات میں ممکنہ تیزی اور چیلنجز

پاکستانی ایکسپورٹرز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ انگریزی یا دیگر بین الاقوامی زبانوں میں غیر ملکی خریداروں کے ساتھ ڈیلنگ کرنا ہوتا تھا۔ ایکیو ورک کی خودکار ڈیجیٹل ورک فورس زبان کے اس فرق کو ختم کر دے گی اور سیکنڈز کے اندر کسٹمرز کو پیشہ ورانہ جوابات موصول ہوں گے، جس سے ڈیل لاک ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

لاگت میں نمایاں کمی

ایک چھوٹا کارخانہ دار مارکیٹ ریسرچ، گرافک ڈیزائننگ اور کسٹمر سپورٹ کے لیے الگ الگ ٹیمیں رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اے آئی پر مبنی یہ ایجنٹک بزنس ٹیم ان تمام کاموں کو خودکار کر کے آپریشنل اخراجات کو نہ ہونے کے برابر کر دے گی، جس سے پاکستانی مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں مسابقت بڑھے گی۔

مستقل آن لائن موجودگی

پاکستان اور مغربی ممالک یا امریکا کے وقت میں فرق (ٹائم زون ڈفرنس) کی وجہ سے اکثر پاکستانی تاجر رات کے وقت خریداروں کو جواب نہیں دے پاتے۔ چونکہ یہ ڈیجیٹل فورس چوبیس گھنٹے فعال رہے گی، اس لیے کوئی بھی امپورٹر کسی بھی وقت دکان کا دورہ کر کے آرڈر بک کروا سکے گا۔

ڈیجیٹل مہارت کی ضرورت

اس نظام کا فائدہ اٹھانے کے لیے بھی پاکستانی تاجروں کو بنیادی ڈیجیٹل خواندگی (ساکھ) کی ضرورت ہوگی۔ پی سی بی، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ٹڈاپ) اور علی بابا کو مل کر مقامی چیمبر آف کامرس کے تعاون سے ورکشاپس کروانا ہوں گی تاکہ دور دراز کے علاقوں کے تاجر بھی اس نظام کو سمجھ سکیں۔

Related Articles