محکمہ داخلہ پنجاب نے جیلوں میں قیدیوں سے مساوی سلوک اور مشقت کیلئے یونیفارم لیبر سکیل متعارف کروا دیئے ہیں, قبل ازیں مشقت کے کسی پیمانے کی عدم موجودگی میں تمام قیدیوں سے مساوی سلوک روا رکھنا ممکن نہیں تھا۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کی مشقت کے حوالے سے درپیش شکایات کے حل کیلئے منفرد اقدامات کی مدد سے ازالہ کیا گیا ہے اور قیدیوں کیساتھ یکساں سلوک کو یقینی بنانے کے لیے لیبر اسکیل متعارف کروائے گئے ہیں۔ قبل ازیں عدالت سے قید بامشقت پانے والے مجرمان سے ایک دن میں کتنی مشقت کروائی جائے طے نہیں تھا اورمشقت کے کسی پیمانے کی عدم موجودگی میں تمام قیدیوں سے مساوی سلوک روا رکھنا ممکن نہیں تھا۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے کہا ہے کہ یونیفارم لیبر سکیل کی عدم موجودگی کے باعث جیلوں میں قائم انڈسٹریز بہترین انداز میں کام نہیں کر پا رہی تھیںانہوں نےواضح کیا کہ پاکستان پریزنز رولز 1978 کے مطابق جیل میں مشقت کرنے والا قیدی کم از کم ایک آزاد مزدور جتنا کام کرنے کا پابند ہے اورجیلوں میں قائم انڈسٹریز کیلئے مساوی لیبر سکیل مارکیٹ سروے کے بعد تیار کیا گیا ہے اور نئے لیبر اسکیل کے تحت قالین، صندوق، لوہے کی چارپائی، وارڈر اور قیدیوں کے لباس، دری، کمبل، کوٹ اور کاٹن نوار کی تیاری بارے روزانہ کے اہداف مقرر کیئے جائیں گے۔ایک ماہ تربیت کے بعد ایک قیدی دن میں لوہے کی 2 چارپائیاں تیار کریگا۔
مزید پڑھیں: جب تک ہم متحد رہیں گے دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی، آرمی چیف
2 ماہ تربیت کے بعد 3 قیدی دن میں 1 کِٹ باکس صندوق تیار کریں گے اورایک ماہ تربیت یافتہ ایک قیدی دن میں 2 انچ چوڑائی کی 25 فٹ کاٹن نوار تیار کریگا۔ایک ماہ تربیت یافتہ قیدی دن میں 6 فٹ لمبائی اور اڑھائی فٹ چوڑائی کی ایک دری تیار کریگا، نئے لیبر قوانین کے مطابق قیدی ایک ماہ تربیت کے بعد 7 فٹ لمبائی اور سوا 4 فٹ چوڑائی کے 3 کمبل تیار کریگا اور2 ماہ تربیت کے بعد قیدی دن میں 2 یونیفارم سوٹ سلائی کریگا اور2ماہ تربیت یافتہ قیدی دن میں یونیفارم کے کپڑے کی 6 میٹر بُنائی کریگا اور3 ماہ تربیت کے بعد قیدی 2 دن میں وارڈز کی 3 شرٹ سلائی کریگا اسی طرح 3 ماہ تربیت یافتہ قیدی 2 دن میں وارڈز کی 3 پینٹ سلائی کریگا۔1 ماہ تربیت کے بعد قیدی 2 فٹ چوڑے قالین کے 12 وارز بُنے گا۔ نئے لیبر سکیل کے مطابق مشقت مکمل کرنے والے قیدیوں کو ہی قانون کے مطابق سزا میں معافی مل سکے گی اورپنجاب بھر میں جیلرز کو نئے مساوی لیبر سکیل کے مطابق قیدیوں سے مزدوری کروانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہیں۔

