پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر نے تصدیق کی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں ریٹائرڈ فوجی افسر فیض حمید کا بڑا کردار رہا ہے اور انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کا ملٹری ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل رؤف حسن نے بھی اعتراف کیا کہ فیض حمید نے پارٹی کے کئی ارکان سے رابطے کیے تھے لیکن انہوں نے ان کے ساتھ تعلق کی نوعیت کی تفصیل نہیں بتائی۔ ان کے بقول جنرل ر فیض حمید کے ساتھ ان کا تعلق صرف سلام دعا تک محدود تھا۔
یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پارٹی اور فوجی افسران کے مابین روابط اور تعلقات پر موجودہ سیاسی ماحول میں مزید توجہ دی جا رہی ہے اور یہ بھی اشارہ مل رہا ہے کہ مستقبل میں اس معاملے پر قانونی یا سیاسی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: انٹراپارٹی کیس، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی 4 درخواستیں مسترد کردیں
عامر ڈوگر نے مزید کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے جلسے جلوسوں کو کنٹرول کرنے والا بل انسانی حقوق سے متصادم ہے۔آٹھ ستمبر کے جلسے کو روکنے کے لیے حکومت کی ساری کوششیں دم توڑ جائیں گی۔لاکھوں افراد جلسے میں شرکت کریں گے۔
حکومت نے رکاوٹ ڈالی تو پلان بی کا استعمال کیا جائے گا۔۔تحریک انصاف کو طاقت کے بلبوتے پر دبایا نہیں جا سکتا۔اٹھ فروری کے الیکشن میں ہم نے دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی۔ملک میں مارشل لا ہے۔وہ پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر ڈمی حکومت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر جو جمہوری نظام قائم کیا گیا ہے اسے اسٹیبلشمنٹ کی 100 فیصد حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر امریکہ کی ایما پر حکومت چل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے گزشتہ دو سالوں سے پوری طاقت کے ساتھ حکومتی مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت جلسے کی اجازت دے رہی ہے دوسری طرف پارلیمنٹ سے ایسے قوانین پاس کر رہی ہے جو انسانی حقوق سے متصادم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک کے اندر جبر کا نظام ہے۔پاکستان بھر میں لوگوں کو بغیر کسی قانون کے اٹھایا جا رہا ہے۔

