ایران نے امریکا پر فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران میزبانی کے اصولوں کی خلاف ورزی اور ایرانی قومی ٹیم کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں امریکی حکام کے رویے کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ کے دوران ایرانی ٹیم کے ساتھ انتہائی نامناسب سلوک کیا گیا جو ایک بین الاقوامی کھیلوں کے ایونٹ کے میزبان کے شایانِ شان نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قومی ٹیم کے متعدد کوچز، فٹبال فیڈریشن کے عہدیداروں، لاجسٹک عملے اور میڈیا نمائندوں کو امریکی ویزے جاری نہیں کیے گئے جبکہ ویزوں کے حصول میں رکاوٹیں ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی ایک بڑا مسئلہ بنی رہیں۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ایرانی ٹیم کو میچ وینیو سے دور ایک الگ مقام پر قیام کروایا گیا جس کے باعث ٹیم کو غیر ضروری سفری مشکلات اور انتظامی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ میزبان ملک نے تمام شریک ٹیموں کے لیے یکساں سہولیات فراہم کرنے کے تقاضے پورے نہیں کیے۔
اس سے قبل ایرانی قومی ٹیم کے کپتان مہدی طارمی بھی امریکی انتظامات پر تنقید کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فیفا نے ویزا اور دیگر انتظامی مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم ٹورنامنٹ کے دوران صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی اور ٹیم کے معاون عملے اور میڈیا نمائندوں کو بدستور مشکلات کا سامنا رہا۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ کھیلوں کو سیاسی معاملات سے بالاتر رکھا جانا چاہیے اور تمام ٹیموں کو بین الاقوامی ضوابط کے مطابق مساوی سہولیات اور احترام فراہم کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ ایران کی قومی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل نہ کر سکی اور گروپ مرحلے کے اختتام پر ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی۔