ایران نے پاکستان کی ثالثی میں جاری سفارتی عمل کے حوالے سے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مذاکرات میں ایٹمی پروگرام زیرِ بحث نہیں آئے گا۔
تہران میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران کی اولین ترجیح خطے میں جنگ بندی اور کشیدگی کا خاتمہ ہے جبکہ لبنان میں جنگ بندی کو بھی غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو ایک قانونی حق سمجھتا ہے اور یورینیم افزودگی سے دستبردار ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
ایرانی ترجمان کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے رابطوں کا مقصد خطے میں امن کی بحالی اور تنازعات کا سیاسی حل تلاش کرنا ہے، نہ کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات،اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگر امریکا نے مذاکرات کو ایٹمی پروگرام کی طرف موڑنے کی کوشش کی تو اسے کامیابی نہیں ملے گی کیونکہ ایران کا مؤقف اس معاملے پر بالکل واضح اور اٹل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران این پی ٹی کا رکن ہے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق پرامن ایٹمی سرگرمیاں اس کا حق ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات اب بھی انتہائی گہرے ہیں اور گزشتہ چند ماہ کے دوران واشنگٹن کے اقدامات نے دونوں ممالک کے درمیان خلیج مزید وسیع کی ہے۔ ان کے بقول یہ توقع کرنا قبل از وقت ہوگا کہ چند ہفتوں کی سفارت کاری سے کوئی بڑا معاہدہ طے پا جائے گا۔
ایرانی ترجمان نے انکشاف کیا کہ قطر کا ایک وفد بھی آج تہران پہنچا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جاری سفارتی عمل میں اصل ثالثی کا کردار پاکستان ادا کر رہا ہے۔اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز کے گرد امریکی محاصرے کے خاتمے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے لیے کشیدگی کم کرنا ناگزیر ہے۔