مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ کا اجلاس کل تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس اب کل قومی اسمبلی کا اجلاس کل دن ساڑھے 12 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔۔
دوسری جانب آج قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کے بعد مختصر ترین کارروائی کے بعد ملتوی کردیا گیا۔
سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات اور توجہ دلاؤ نوٹس کو معطل کرنے کی تحریک پیش ہوئی جسے ایوان نے منظور کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی منظوری دیدی
ذرائع سپیکر چیمبر کا کہنا تھا کہ آج قومی اسمبلی میں آئینی ترامیم پیش نہیں ہوسکیں گی اس لیے قومی اسمبلی کا اجلاس کل تک ملتوی کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ادھر سینیٹ کا اجلاس بھی کل ساڑھے 12 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
دوسری جانب پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں نے آئینی عدالت کی مشروط حمایت کردی ہے، پی ٹی آئی، جے یو آئی اور حکومتی اتحادکی جماعتیں آئینی عدالت پر مشروط رضامند ہیں۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بل پر مزید مشاورت کرنے کی تجویزدی جب کہ پی ٹی آئی نے مؤقف اپنایا کہ جلد بازی میں قانون سازی نہ کی جائے۔
سید خورشید شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں جے یو آئی سربراہ، سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف، رانا تنویر، چوہدری سالک، اعجاز الحق، سید نوید قمر و دیگر نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے مجوزہ آئینی ترمیمی بل پر مزید مشاورت کی تجویز دی۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے موقف پیش کیا کہ جلد بازی میں قانون سازی نہ کی جائے، یہ ایسا آئینی معاملہ ہے جس پر مزید مشاورت درکار ہے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے آئینی عدالت کے معاملے پر حکومت کو مشروط حمایت کا یقین دلایا ہے۔