وفاقی وزارتوں کی تعداد 22، افسران و ملازمین کے مابین تناسب کم کرنے کی تجاویز تیار

وفاقی وزارتوں کی تعداد 22، افسران و ملازمین کے مابین تناسب کم کرنے کی تجاویز تیار

وفاقی حکومت نے وزارتوں کی تعداد 22 تک محدود کرنے اور افسران و ملازمین کے مابین تناسب کو کم کرنے کے لیے تجاویز تیار کر لی ہیں۔

سول سروس ریفارمز کے تحت افسران اور ملازمین کے مابین موجودہ تناسب 1:3 ہے، جسے بہتر کرنے کے لیے افسران کی سکیل کو کم کر کے تین یا چار میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ یکساں کام کرنے والی وزارتوں کو ضم کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ان وزارتوں میں نیشنل فوڈ سیکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی، دفاع، دفاعی پیداوار، وزارت توانائی، پیٹرولیم، فائننس، اقتصادی امور ڈویژن، اور ریوینیو شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کیخلاف چالان سامنے آگیا

مزید برآں وزارت قومی صحت، فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ، ہیومن رائٹس، تخفیف غربت، سماجی تحفظ، منصوبہ بندی و ترقی، وزارت ریلوے، ہاؤسنگ اینڈ ورکس، مواصلات، میری ٹائم افیئرز، ایوی ایشن، وزارت داخلہ، نارکوٹکس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تجارت، ٹیکسٹائل، صنعت و پیداوار، نیشنل سیکیورٹی ڈویژن اور کابینہ ڈویژن بھی اس عمل میں شامل ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق آئینی اداروں میں افسران اور ملازمین کے درمیان تناسب 1:4 فیصد ہے، جبکہ پاک سیکرٹریٹ میں یہ تناسب 1:5 فیصد ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پاک سیکرٹریٹ کی وزارتوں میں گریڈ 17 سے 22 کے افسران کی تعداد 2440 ہے، جب کہ گریڈ ایک سے 16 کے ملازمین کی تعداد 11 ہزار 63 ہے۔ اس طرح ہر افسر کے ماتحت تقریباً پانچ ملازمین کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اب الیکشن کمیشن کی رجسٹرڈ پارٹی نہیں رہی؟کنور دلشادکا انکشاف

وزارتوں میں سیکشن افسر یا ڈپٹی سیکرٹری اور سینیئر جوائنٹ سیکرٹری یا ایڈیشنل سیکرٹری کی اسامیوں کی ختم کرنے یا انتظامی اسامیوں پر تبدیل کرنے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *