وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پیکیج صرف وفاق کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہوتا ہے اور یہ آخری پروگرام ہوگا۔
انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سخت فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا کیونکہ اگر آج سخت فیصلے نہیں کیے گئے تو دوبارہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالنا پڑے گا۔ انہوں نے ترقی کے لیے بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی گئی
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیکس محصولات بڑھانا ناگزیر ہے، تاہم ٹیکس وصولی کے دوران انسانی حقوق کی پاسداری ضروری ہے۔ اس سلسلے میں، وہ ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کریں گے اور اینٹی اسمگلنگ کے لیے ڈیجیٹل چیک پوسٹیں بنانے جا رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر قیمتوں میں کمی کے حوالے سے کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے چاروں صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں پر توجہ دیں اور مہنگائی کو کنٹرول کریں۔ جب پیٹرول کی قیمت کم ہوتی ہے تو کرائے بھی کم ہونے چاہئیں۔
وزیر خزانہ نے یہ بھی وضاحت کی کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے کلائمیٹ فنانسنگ پر کھل کر بات ہوئی ہے اور ورلڈ بینک سے کلائمیٹ پر فنڈنگ اور تکنیکی سپورٹ ملے گی۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اسٹرکچرل تبدیلیوں کے بغیر بہتری نہیں آئے گی اور وزیراعظم نے بھی یہی بات کی ہے۔ہمیں اب چند اہم مخصوص چیزوں پر فوکس کرنا ہوگا۔