برطانوی آکشن ہاؤس کے مطابق ٹائی ٹینک کے حادثے میں بچ جانے والی خاتون مسافر لورا میبل کی لائف جیکٹ 9 لاکھ 4 ہزار 500 امریکی ڈالر میں فروخت ہوئی، جو پاکستانی کرنسی میں 25 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔یہ قیمت نیلامی سے پہلے لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ رہی جن میں اس کی مالیت 3 لاکھ 39 ہزار سے 4 لاکھ 74 ہزار ڈالر کے درمیان بتائی گئی تھی۔
لورا میبل ٹائی ٹینک کے فرسٹ کلاس کیبن میں سفر کر رہی تھیں اور حادثے کے وقت لائف بوٹ نمبر 1 کے ذریعے محفوظ رہنے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔ اس لائف جیکٹ پر ان کے اور دیگر زندہ بچ جانے والے افراد کے دستخط بھی موجود ہیں جس نے اسے تاریخی طور پر اور بھی اہم بنا دیا ہے۔
یاد رہے کہ ٹائی ٹینک اپریل 1912 میں اپنے پہلے ہی سفر کے دوران برطانیہ سے امریکا جاتے ہوئے بحر اوقیانوس میں ایک برفانی تودے سے ٹکرا کر ڈوب گیا تھا۔ اس حادثے میں 1500 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ تقریباً 700 افراد کو بچا لیا گیا تھا۔
اس وقت ٹائی ٹینک کو دنیا کا سب سے جدید اور پرتعیش بحری جہاز سمجھا جاتا تھا اور اسے’ناقابلِ غرق‘ قرار دیا گیا تھا مگر اس کا انجام تاریخ کا ایک بڑا سانحہ بن گیا۔
1985 میں ماہرینِ بحریات نے اس کے ملبے کو سمندر کی گہرائیوں میں دریافت کیا جو دہائیوں تک ایک معمہ بنا رہا۔ ماہرین کے مطابق ٹائی ٹینک سے جڑی ہر چیز اپنے اندر ایک دردناک تاریخ رکھتی ہے اور یہ لائف جیکٹ بھی اسی المناک واقعے کی ایک نایاب اور قیمتی یادگار ہے جو اب نئے خریدار کے پاس منتقل ہو گئی ہے۔