سعودی عرب میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے مدینہ منورہ کے قریب واقع المہد گورنری میں بڑی دریافت کی ہے، جہاں 1774 نئے تاریخی آثار سامنے آئے ہیں جو خطے کی قدیم تہذیب اور ابتدائی اسلامی تاریخ کے اہم شواہد فراہم کرتے ہیں۔
سعودی ہیریٹج کمیشن کے مطابق یہ دریافت دو مراحل پر مشتمل آثار قدیمہ کے سروے اور تحقیق کے بعد سامنے آئی۔ ان میں مختلف تاریخی مقامات، نشانات اور قدیم تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے آثار شامل ہیں جو ابتدائی اسلامی دور سمیت اس سے بھی قدیم ادوار تک پھیلے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دریافت شدہ آثار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ خطہ مختلف ادوار میں انسانی آبادکاری اور تہذیبی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔اہم دریافتوں میں ایک نایاب چٹانی کتبہ بھی شامل ہے جس پر درج ہے: ’’اللہ دنیا اور آخرت میں عمر بن الخطاب کا والی ہے‘‘۔ حکام کے مطابق یہ کتبہ ابتدائی اسلامی دور سے تعلق رکھنے والا ایک اہم تاریخی ثبوت سمجھا جا رہا ہے جو حضرت عمر بن الخطابؓ کے دور کے تاریخی اور مذہبی پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ المہد گورنری میں ملنے والے ہر نقش اور پتھر اپنے اندر ایک الگ تاریخ سموئے ہوئے ہےاور ان آثار پر مزید تحقیق جاری ہے تاکہ خطے کی قدیم تہذیبوں کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔