وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ، تمام وفاقی وزراء پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کے چیمبر میں موجود تھے جبکہ وزیرداخلہ محسن نقوی اور پی پی پی چیرمین بلاول بھٹو بھی شریک ہوءے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کچھ دیر قبل ہونے والی سیاسی سرگرمیوں پر کابینہ کو بریفنگ دی ، وفاقی کابینہ بلاول بھٹو زرداری کی بریفنگ کے بعد مسودے کی منظوری پر فیصلہ کرے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور اٹارنی جنرل منصور عثمان، اسحاق ڈار، اعظم نذیر تارڑ اور محسن نقوی بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود تھے۔
اجلاس کے بعد وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ کابینہ کا اجلاس آج دوپہر ڈھائی بجے دوبارہ ہوگا،بعض تبدیلیوں کے بعد کابینہ سے ترمیمی بل کی منظوری آج لی جائے گی۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی میں ڈرافٹ کو حتمی شکل دی گئی، مولانا فضل الرحمان کو بھی ڈرافٹ کا حصہ بنایا گیا، کمیٹی نے جو ڈرافٹ منظور کیا تھا وہ کابینہ کے سامنے رکھا،کابینہ کو پوری طرح بریف کردیا گیا ہے، پچھلے 4 ہفتوں سے تواتر سے یہ کام جاری ہے۔
قبل ازیں سینیٹ کے 3 گھنٹے تاخیر سے شروع ہونے والے اجلاس میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کردیا گیا تھا جسے بعد ازاں اتوار کی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا، جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی رسمی کارروائی کے بعد کل صبح ساڑھے 11 بجے اور پھر سہ پہر 3 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
دوسری جانب سینیٹ کا اجلاس آج سہ پہر تین بجے تک ملتوی ہوگیا ہے جب کہ قومی اسمبلی کا اجلاس شام 5 بجے ہوگا۔

