چیف جسٹس کے تقرر ی : پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ملتوی، سنی اتحاد کونسل کو منانے کا فیصلہ

چیف جسٹس کے تقرر ی : پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ملتوی، سنی اتحاد کونسل کو منانے کا فیصلہ

نئے چیف جسٹس کی تقرری کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس ساڑھے 8 ختم ہوگیا۔

پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کی طرف سے بائیکاٹ پر اْن کے تین ارکان علی ظفر، بیرسٹر گوہر اور حامد رضا کی نشستیں لگائی تھیں۔ کمیٹی کے دیگر ارکان جس میں نون لیگ، پی پی پی، جے یوآئی اور ایم کیو ایم کے ارکان شامل ہے، انہوں نے اجلاس میں شرکت کی۔ میڈیارپورٹس کے مطابق سکرٹری قانون نے 3 سینیرترین ججز کے نام کمیٹی کے سامنے پیش کردیئے۔ جس کے بعد کمیٹی نے ایک ایک سینئر جج کے پروفائل کا جائزہ لیا۔ ان تجویز کردہ تین ناموں میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحیٰ آفریدی شامل ہے۔

سنی اتحاد کونسل کی طرف سے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد چار رکنی کمیٹی، سنی اتحاد کونسل کے اراکین کو منانے کیلئے اْن کے ہاں چلے گئے۔ کمیٹی کا اجلاس اب رات ساڑھے 8 بجے دوبارہ ہوگا۔ واضح رہے کہ موجودہ چیف جسٹس فائز عیسیٰ اس مہینے کی 25 تاریخ کو ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔ نئے چیف جسٹس کے تقرری کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس معنقد کیاگیا۔ پہلے اجلاس میں چیف جسٹس کی طرف سے بھیجے گئے تین ناموں کا جائزہ لیا گیا۔

مزید پڑھیں: نئے چیف جسٹس کی تعیناتی: رجسٹرار سپریم کورٹ نے نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیے

اس سے قبل چیف جسٹس تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا حصہ بننے کے معاملے پر بیرسٹر گوہر اور علی ظفر نے پارلیمانی کمیٹی کا حصہ بننے کی حمایت کی جبکہ سلمان اکرم راجہ سمیت اکثریت نے مخالفت کی اور کھری کھری سنا دیں۔ اس حوالے سے تحریکِ انصاف ذرائع کا کہنا ہے کہ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں پارٹی سیکرٹری جنرل ہوں پارلیمانی کمیٹی کے نام میری مشاورت کے بغیر کس نے دیئے ، جس پر دیگر ارکان نے کہا کہ جب ترمیم کو ہی نہیں مانتے تو پارلیمانی کمیٹی میں شرکت کیوں ہونی چاہیے۔

تحریکِ انصاف ذرائع کا کہنا ہےکہ کور کمیٹی نے پارلیمنٹ میں بھرپور احتجاج نہ کرنے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اراکین نے کہا کہ ہمارے اراکین کو یا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے یا پھر تمام جا کر احتجاج ریکارڈ کراتے۔

تحریکِ انصاف ذرائع کا کہنا ہے کہ دس بارہ اراکین جانے سے فرینڈلی اپوزیشن کا تاثر ملا اورہمارے کارکن اور مقامی رہنما اس ساری صورتحال سے مایوس ہیں، اس ضمن میں بیرسٹر گوہر اور علی ظفر کی وضاحتیں بھی مسترد کر دی گئیں اور ارکانِ کور کمیٹی کے مطابق کس نے پارلیمانی کمیٹی کے لیے نام دیے اور کس کس سے مشاورت ہوئی بتایا جائے اس حوالے سے تحریکِ انصاف ذرائع کا کہنا ہےکہ نام دینے ہیں یا نہیں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو اعتماد میں کیوں نہ لیا گیا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *