جیو نیوز نے پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس کو آگاہ کیا ہے کہ حساس ڈاکیومینٹری بنانے اور اس کو منظور کرنے والے افراد کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے۔
پیمرا کی جانب سے جیو نیوز کی معطلی کے سلسلے میں کونسل آف کمپلینٹس کے سامنے سماعت کے دوران، جیو نیوز کی لائسنس ہولڈر کمپنی کی طرف سے سپریم کورٹ کے وکیل صائم ہاشمی نے انتظامیہ کی جانب سے غلطی کا غیر مشروط اعتراف کیا اور غیر مشروط معذرت بھی کی۔
جیو نیوز کی نمائندگی کرتے ہوئے صائم ہاشمی اور ہائی کورٹ کے وکیل ارباز خان نےکونسل کے ساتھ تمام متعلقہ دستاویزات بھی شیئرکیں جن میں بتایا گیا کہ جیو نیوز کی انتظامیہ نے ایک فوری انکوائری کے بعد ڈاکیومینٹری بنانےکے ذمہ دار شخص اور ڈاکومینٹری منظور کرنے والی ایڈیٹوریل کمیٹی کے رکن کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔
صائم ہاشمی ایڈووکیٹ نے کونسل کو بتایا کہ مستقبل میں اس قسم کی کسی بھی غلطی کے امکان کو کم سےکم کرنےکے لیے جیو نیوز کی انتظامیہ نے ایک عالم دین کو اپنی ایڈیٹوریل کمیٹی کا حصہ بنانےکا فیصلہ کیا ہے جو نشر کیے جانے والے حساس مذہبی مواد پر نظر رکھ سکیں اور مستقبل میں کسی بھی غلطی کو روک سکیں۔
یہ معاملہ 10 محرم الحرام کو نشر ہونے والی ایک گھنٹے طویل مذہبی سفری دستاویزی فلم سے متعلق ہے۔ اس ڈاکیومینٹری میں افسوسناک طور پر 13 سیکنڈز کے حساس مناظر شامل تھے، جس کی وجہ سے جیو نے پیمرا کے نوٹیفکیشن سے قبل ہی اس ڈاکیومینٹری کو دوبارہ نشر ہونے سے فوری روک دیا تھا اور اس مواد کو ڈیجیٹل میڈیا سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔